Thursday, December 7, 2017

بے شک! اللہ ہی رزاق ہے


میں ایک ادارہ میں اکاؤنٹنٹ تھا‘ ہمارے ساتھ ایک صاحب ہوا کرتے تھے وہ حافظ آباد کے قریب واقع کسی گاؤں کے رہنے والے تھے‘ وہ وقتاً فوقتاً گاؤں کا چکر لگاتے رہتے تھے وہ اکثر ایک حکیم صاحب کا ذکر کرتے‘ ان حکیم صاحب کی باتیں کچھ عجیب سی تھیں۔ مجھے بھی آج تک یاد ہیں۔ حکیم صاحب کا گاؤں گکھڑ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔ حکیم صاحب کا بچپن اپنے دادا کی گود میں گزرا تھا۔ ان کے والد ان کی پیدائش سے قبل انتقال فرماگئے تھے‘ دادا نے بچپن ہی سے عبدالحکیم کو یہ سبق پڑھانا شروع کردیا کہ اللہ کہتا ہے کہ میں نے انسانوں اور جنات کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ عبادت میں سے صرف وہ وقت اللہ تعالیٰ معاف کردے گا جو اس کے دیے ہوئے رزق کی تلاش کرنے میں لگے گا اور جو وقت انسان کے بس سے باہر ہے جیسے سونا، آرام کرنا وغیرہ وغیرہ۔ گاؤں میں گھر کاکافی بڑا صحن تھا‘ مزے کی بات یہ تھی کہ گھر کے گرد کوئی چار دیواری بھی نہ تھی۔ گھر میں ایک طرف بڑے بڑے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔ صبح شام دنیا جہان کی چڑیاں وہاں آکر جمع ہوجاتیں اور چیں چیں کرکے آسمان سر پر اٹھالیتیں۔ صبح فجر ادا کرکے آپ ننھے حکیم کو گود میں لٹا کر ایک چارپائی پر بیٹھ جاتے اور چڑیوں کی آواز سے آواز ملانے کی کوشش کرتے‘ کہا کرتے یہ کہہ رہی ہیں ’’رازق رازق تو ہی رازق‘‘ گھر میں اکثر کہا کرتے کہ یہ اپنے دل میں دعا مانگ سکتی تھیں جیسے دنیا کے باقی سینکڑوں ہزاروں جانور مانگتے ہیں۔ لیکن انسان کو احساس دلانے کیلئے اللہ نے ان کو با آواز بلند روز کا رزق روز صبح مانگنے کا حکم دیا۔ عبدالحکیم کو سمجھاتے رہتے کہ ہمارے بزرگوں نے اور ہم نے تو خدا سے چڑیوں کی طرح رزق مانگ کر زندگی گزار لی اور بڑے سکھی رہے تم بھی یہ راہ اختیار کرو گے تو زندگی بڑے سکون سے گزر جائے گی۔شام کو دادا جان عصر کی نماز کے بعد پھر چڑیوں کے ساتھ بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے۔ وہ کہا کرتے غور کرو وہ کیا کہہ رہی ہیں مجھے تو یہی سمجھ آتا ہے کہ کہہ رہی ہوں ’’شکر شکر مولا تیرا شکر‘‘ یعنی تو نے ہماری صبح کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ہمیں اتنا رزق دیا کہ ہم کھا بھی نہ سکے۔ عبدالحکیم صاحب کا گکھڑ منڈی میں جی ٹی روڈ پر مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ گرمیوں میں آٹھ بجے اور سردیوں میں نو بجے دکان لازماً کھل جاتی تھی لیکن دکان بند ہونے کا کوئی مقررہ وقت نہیں تھا۔ کہا کرتے تھے جب کھاتہ مکمل ہوگیا‘ دنیاداری کا وقت ختم ہوگیا۔ہمارا ساتھی بتاتا کہ کھاتے کا بھی بڑا دلچسپ چکر تھا۔ حکیم صاحب صبح بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کیلئے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آکر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں ان کے سامنے ان چیزوں کی قیمت درج کرتے پھر ان کاٹوٹل کرتے پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آبیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کردے گا۔ میں اسی وقت یہاں سے اٹھ جاؤں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہوکر واپس اپنےگاؤں چلے جاتے۔ ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کیلئے چٹ کھولی تو وہ چٹ کو دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آرہے تھے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے اعصاب پر قابو پالیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ کچھ دیر سوچتے رہے پھر باقی چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کاکام ہے اللہ جانے‘‘ ایک دو مریض آئے ہوئے تھے ان کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار ان کے مطب کے سامنے آکر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحب کار کوکوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے وہ سوٹڈ بوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگرکسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔ وہ صاحب کہنے لگے میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں پندرہ سولہ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے کر آیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح کہ میں لاہور سے میرپور جارہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہوگئی۔ ڈرائیور پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آکر کرسی پر بیٹھ جائیں۔میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پرآکر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں‘ مجھے بھوک لگی ہے‘ آپ اسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں‘ میں نے یہ سوچا ‘مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب! میں پانچ چھ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں‘ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہوگئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوںاور مایوس ہوں۔ آپ نے کہا: میرے بھائی توبہ استغفار پڑھو‘ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفاء نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفاء ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ رب العزت کے حکم سے ہونی ہے۔ مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جارہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنارہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے دو حصوں میں تقسیم کرکے دو لفافوں میں ڈالیں پھر مجھ سے میرا نام پوچھا‘ میں نے محمدعلی بتایا۔ پہلے لفافے پر محمدعلی لکھا اور دوسرے لفافے پر بیگم محمد علی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں توصرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا: بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہوگیا ہے۔ میں نے کہا: مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی‘ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کیلئے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جاکر بیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا وہ انسان کوئی فرشتہ ہے اور اس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔ جب بھی پاکستان آیا کار ادھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہوچکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی بائیس تاریخ کو ہونا تھا۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ مگر شادی کے ٹھیک دس دن پہلے وہ اچانک وفات پاگئی۔ اس کے فوت ہونے کے بعد نجانے کیوں مجھے اور میری اہلیہ کو آپ کی بیٹی (جو پندرہ سال پہلے آپ کے مطب پر کھڑی تھی) کا شدت سے خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست بھی خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کیلئے رقم آپ کو نقد پہنچادیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھادیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جاسکے۔ حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا‘ میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چٹ یہاں آکر کھول کر دیکھی تو مرچ مصالحہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چٹ ذرا دیکھیں۔ محمدصاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے اللہ جانے‘‘ محمدعلی صاحب یقین کریں‘ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ آپ کی بھانجی کی موت کا صدمہ ہے لیکن اس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔ حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رزاق رزاق تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر شکر مولا تیرا شکر‘‘

No comments:

Post a Comment