Monday, October 5, 2015

احتیاط کریں!بچوں کو سردی کے مضر اثرات سے بچائیں

احتیاط کریں!بچوں کو سردی کے  مضر اثرات سے بچائیں:۔

بچےاللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔  نبی کریم ﷺ نے انہیں جنت کے پھول  کہا ہے جس طرح ایک پھول نرم و نازک ہوتا ہے اور اس کی بے انتہا حفاظت کی جاتی ہے ۔اسی طرح بچے کی صحت کی حفاظت ماں کی ذمہ داری ہے ۔ ہر ماں ممکنہ حد تک اپنے بچے کو صحت مند دیکھنا چاہتی ہے ۔ خصوصاً سردی کے موسم میں تو اس کی پریشانی دیدنی ہوتی ہے ۔ اگرچہ  سردی کا موسم بہت پر لطف ہوتا ہے مگر چھوٹے بچوں کی ماؤں کیلئے بالکل بھی نہیں ۔ خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کی پہلی سردیاں اور پہلی گرمیاں بہت مشکل ہوتی ہیں اس لئے سبھی مائیں اپنے بچوں کو سردی و گرمی کے مضر اثرات سے بچانےکی کوشش میں رہتی ہیں ۔ آج کل سردی کا موسم اپنے جوبن پر ہے اور نزلہ و زکام ، بخار عام طور پر بچوں کو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے ۔

بچوں کو ٹھنڈ لگ جانا:۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے ۔ اس سے بچوں میں بخار ، گلا خراب اور سینے کے امراض خصوصاً  نمونیے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور نمونیہ کافی مہلک مرض ہے ۔ آج کل پولیو کے قطروں کے ساتھ نمونیے سے بچاؤ کے ٹیکے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔  ٹھنڈ لگنے کی وجوہات کیا ہیں ؟ سب سے بڑی وجہ بچوں کا گیلا رہنا ہے ۔ مناسب کپڑے نہ پہنانے کی وجہ سے ٹھنڈ لگ جاتی ہے یعنی اگر کم گرم کپڑے ہیں تو ٹھنڈ لگنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر ڈھانپ کا رکھیں خصو صاً سخت سردی میں ۔ سر ، گردن ، سینہ اور پاؤں مکمل طور پر گرم کپڑوں میں لپٹے ہوں ۔ مائیں عام طور پر سوئیٹر اور پاجامہ پہنا کر سمجھتی ہیں کہ ہم نے بچوں کو گرم کپڑے پہنائے ہوئے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے ۔ جو بچہ گود میں ہے اسے گرم کمبل یا شال میں لپیٹ کر کمرے سے باہر نکالیں خصوصاً را ت کو ٹھنڈ زیادہ ہوتی ہے اس لئے رات کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے ، بچے کو کھلی کھڑکی یا دروازے کے قریب مت لٹائیں جہاں سے ہوا سیدھی اندر آتی ہے اس سے بھی ٹھنڈ لگ جاتی ہے۔

بچوں کو نہلانا:۔ سردی کے موسم میں بچوں کو بہت احتیاط سے نہلانا چاہیئے جس جگہ پر بچے کو نہلائیں وہاں  ہیٹر یا انگیٹھی سلگا کر کمرہ یا غسل خانہ گرم کر لیں ۔ پانی نیم گرم کریں اور اسے اپنے ہاتھ یا بازہ پر ڈال کر چیک کر لیں کہ زیادہ گرم یا ٹھنڈا نہ ہو۔ نہلانے کے بعد کپڑے  بھی اسی گرم کمرے میں پہنائیں اور اچھی طرح ڈھانپ کر بچے کو باہر لائیں ۔ بچوں کو دھوپ میں بٹھائیں اس سے ان کی نشو نما پر اچھا اثر پڑے گا اور وٹامن ڈی بھی حاصل ہو گی ۔ ماں کا دودھ بچے کا بنیادی حق ہے او ر صحت بخش غذا ہے ۔ بچے کو اس حق سے محروم نہ کریں ۔ سردی کے موسم میں ماں کا دودھ پینے والے بچے اور ماں دونوں آرام سے رہتے ہیں ۔
نزلہ و زکام بخار :۔ اگر بچے بے احتیاطی کی وجہ سے بیمار ہو جائیں تو پریشان مت ہوں ۔ ایک ماں کو بہت حوصلہ مند ہونا چاہیے ۔ اور اپنی پوری توجہ بچے پر دینی چاہیئے ۔ سردی کو موسم میں اگر ناک بند ہو تو بچوں کو دو تین دفعہ سادے پانی سے بھاپ دیں اس سے ان کی ناک بند نہیں ہو گی اور وہ سکون سے سوئیں گے ۔ کھانسی لگنے کی صورت میں تھوڑے سے گرم پانی میں شہد ملا کر پلائیں ۔ اگر بچے کو تیز تیز سانس آ رہا ہو یا اس کی پسلیاں تیز تیز چلنے لگیں یا سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو اسے فوراً بچوں کے ڈاکٹر کو دکھائیں یہ نمونیہ کی علامت ہے۔

شیر خوار بھی صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتے ہیں:۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اچھے اور برےمیں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی دراصل وہ خوبی ہے جو انسانوں کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور ایک جدید تحقیق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کمسن شیر خوار بچے بھی قدرت کی ودیعت کردہ اس صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ اس ریسرچ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جو شیر خوار بچے صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، وہ دوسروں کو اپنی چیزوں میں شریک کرنے کا جزبہ بھی رکھتے ہیں ۔ اس تحقیق میں حصہ لینے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ جن دودھ پیتے بچوں پر یہ ریسرچ کی گئی تھی وہ غذا کی مساوی اور غیر مساوی تقسیم کے درمیان فرق کو سمجھ رہے تھے ۔ جس سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ زندگی کے ابتدائی دنوں ہی میں انہیں انصاف پسندی سے آگاہی ہو چکی تھی ۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچہ جتنا زیادہ منصف مزاج تھا ، اتنا ہی وہ دوسرے بچوں کو اپنی چیزوں مثلاً کھلونوں کے استعمال کی اجازت دینے میں فراخ دل تھا ۔ نفسیات کےپروفیسر سمر ویل نے بتا یا کہ اس ریسرچ سے ہم نے جو نتائج اخذ کئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہےکہ منصف مزاجی اور ایثار پسندی کی خوبیاں اس وقت سے کہیں پہلے بچوں میں آ جاتی ہیں جن کے بارے ہیں ہم گمان کر رہے تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ جو بچے غذا کی منصفانہ تقسیم کے معاملے میں زیادہ حساس تھے ، وہی بچے اپنے پسندیدہ کھلونے دوسرے بچوں کو دینے میں زیادہ خوش دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ 15 ماہ کو بچوں کو مختصر دورانیے کی دو ویڈیو فلمیں دکھائی گئی تھیں ۔ پہلی ویڈیو میں خستہ کرارے بسکٹ سے بھرے پیالے دو افراد میں تقسیم کرتے ہوئے دکھائے گئے تھے ۔ پہلی مرتبہ یکساں تعداد میں بسکٹ دونوں کو دیے گئے لیکن دوسری مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کے مقابلے میں کم بسکٹ دیئے گئے ۔ اسی طرح دوسری ویڈیو فلم میں دودھ سے بھر اایک جگ ان دونوں افراد میں اسی انداز میں تقسیم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔ جس وقت بچوں کو یہ دو ویڈیوز دکھائی جا رہی تھیں اس وقت موقع پر موجود سائنسدان یہ دیکھ رہے تھے کہ ان میں سے ہر ایک بچے نے غذا کی تقسیم کے مناظر کو کتنی دیر تک ٹکٹکی باندھے دیکھا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شیر خوار بچے حیران ہوتے ہیں تو وہ کسی بھی حیران کرنے والی چیز یا منظر کو زیادہ دیر تک زیادہ توجہ سے دیکھتے ہیں ۔ ان سائنسدانوں نے یہ دیکھا کہ جب ایک شخص کو دوسرے سے زیادہ خوراک دی جا رہی تھی تو بعض بچوں نے یہ منظر دیکھنے میں زیادہ وقت صرف کیا۔ ڈاکٹر سمرویل نے بتایا کہ شیر خوار بچوں کو یہ توقع تھی کہ خوراک منصفانہ طور پر تقسیم کی جائے گی اور جب ایک شخص کو دوسرے کے مقابے میں زیادہ بسکٹ اور زیادہ دودھ دیا گیا تو ان کی حیرانی دیدنی تھی ۔ اس سے پہلے کے طبی جائزوں میں دیکھایا گیا تھا کہ دو سالہ بچوں میں اپنے ہم عمر بچوں کی مدد کا جزبہ پایا جاتا ہے جو دراصل ایثار پسندی کی علامت ہے جبکہ چھ اور سات سال کی درمیانی عمر کے بچوں نے انصاف پسندی کا احساس ظاہر کیا تھا۔ ڈاکٹر سمر ویل نے بتا یا کہ شیر خوار بچے جب دوسرے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ سلوک اور رویہ دیکھتے ہیں تو اس مشاہدے سے ان میں بھی انصاف پسندی اور ناانصافی کا احساس جنم لیتا ہے ۔ حالیہ تحقیق کے دوسرے مرحلے میں سائنسدانوں نےیہ جائزہ لیا کہ یہ بچے کسی اجنبی کے ساتھ اپنا کھلونا شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ جو بچے خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم پر زیاادہ حیران ہونے والے بچوں کے مقابلے میں ، دوسرے بچوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ کھلونے شیئر کرنے کا جزبہ زیادہ تھا۔

صحابہ اہل بیت کی قبولیت دعا

صحابہ اہل بیت کی قبولیت دعا:۔

حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ ہم حضرت مقداد بن اسع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چلے ایک روز حضرت عمر و بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانوروں کو چرانے کیلئے چلے تو میں دوپہر کو انہیں دیکھنے کیلئے گیا پس اچانک ایک ابر نے ان پر سایہ ڈال رکھا تھا اور یہ ابر ان سے بالکل جدا نہ تھا میں نے انہیں بیدار کیا تو انہو ں نے کہا یہ ایک ایسی شے ہے کہ اگر مجھے اس کی خبر ہو گئی کہ تو نے اس بات کی کسی کو اطلاع دی تو میرے اور تیرے درمیان خیر نہیں رہ جائے گی۔ راسی کہتے ہیں پس خدا کی قسم ! جب تک ان کی وفات نہ ہو گئی میں نے یہ بات کسی سے نہیں کہی ۔

صحابہ کرام کی دعاؤں سے بارش کا ہونا :۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد کے اس دروازہ سے داخل ہوا جو ممبر کے سامنے تھا اور حضور ﷺ کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے وہ آپ ﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جانور ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے آپ ﷺ اللہ سے ہم لوگوں کیلئے دعا فرمائیں کہ اللہ بارش دے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا اے میرے اللہ ! ہم کو بارش دے، اے میرے اللہ! ہم کو بارش دے ، اے میرے اللہ ! ہم کو بارش دے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ نے فرمایا! خدا کی قسم ! آسمان میں نہ ابر دیکھ رہے تھے نہ ابر کا کوئی ٹکڑا اور نہ ہمارے اور سلع پہاڑی کے درمیان کوئی مکان اور گھر تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلع پہاڑی کے پیچھے سے ڈھال کی مانند ایک ابر ظاہر ہوا، جب بیچوں بیچ آسمان پر پہنچا ، پھیل گیا ، پھر برسا ۔ یہ کہتے ہیں خدا کی قسم ! اتنی بارش ہوئی کہ ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا ۔ پھر وہی شخص اسی دروازے سے اگلے جمعہ کو سامنے آیا اور حضور بنی کریمﷺ کھڑے خطبہ فرمارہے تھے ۔ آپﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ! مال ہلاک ہو گئے راستہ بند ہو گیا ۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش کو روک دے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ مبارک اٹھائے اور فرمایا ! اے میرے اللہ ! ہمارے پاس ہو ہم پر نہیں ،ٹیلوں پر ہو، پہاڑوں پر ہو ، پہاڑیوں پر ہو ، درخت کے اگنے کی جگہ پر ہو، حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کہتے ہیں کہ فوراً بارش ختم ہو گئی اور ہم نکلے کہ دھوپ میں چل رہے تھے ۔ ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ میں نے ابر کو دیکھا کہ دائیں اور بائیں پھٹ گیا اور برس رہا تھا اور اہل مدینہ پر نہیں برس  رہا تھا ۔ ایک اور روایت میں اس طرح جو ہی آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ہم آسمان پر ابر کا کوئی ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے ، پس قسم اس ذات کی کہ میرا نفس اس کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی آپ ﷺ نے ہاتھ نہیں رکھے تھے یہاں تک کہ پہاڑوں کی مانند ابر اٹھے اور ابھی آپ ﷺ ممبر پر سے نہیں اترے تھے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ بارش آپ ﷺ کی ڈاڑھی مبارک سے ٹپکنے لگی ۔ حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصہ میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور واپس دونوں ہاتھ بھی لو ٹائے نہیں تھے یہاں تک کہ فضا بدلی اور ابر آیا اور پھر برسا پس لوگوں نے ہر وہ برتن بھر لیے جو ان کے پاس تھے ۔ پھر ہم چلے اور ہم نے غور سے دیکھا کہ اس بارش نے لشکر سے تجاوز نہیں کیا تھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی ٰ عنہ ! نے فرمایا کہ لوگوں کو حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کے زمانہ میں بہت سخت قحط پڑا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، لوگو ں کو لیکر نکلے او ران کو دو رکعت نماز پڑھائی اور اپنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اس کا دایاں حصہ بائیں حصہ پر کر لیا اور بائیں حصہ پر دائیں حصہ پر  کر لیا ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور کہا اے میرے اللہ پاک! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تجھ سے بارش طلب کرتے ہیں ابھی حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اپنی جگہ سے ہٹے نہیں تھے یہاں تک کہ بارش ہو گئی ۔ لوگ اسی طرح پر تھے کہ دیہات سے کچھ لوگ آئے اور حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا ہم فلاں دن فلاں وقت اپنی وادی میں تھے کہ اچانک ہمارے اوپر ایک ابر آیا ۔ ہم نے اس ابر میں یہ آواز سنی اے ابو حفص! مدد آ گئی ، اے ابو حفص مدد آگئی !( ابو حفص حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کی کنیت ہے) مالک الدار بیان کرتے ہیں کہ حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کے زمانہ میں لوگوں کو قحط لگا ۔ ایک شخص نے حضور ﷺ ! کے روضہ اقدس ﷺ کے پاس آ کر کہا یارسول اللہ ﷺ اپنی امت کیلئے  اللہ پاک سے بارش طلب کیجئے ۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کی امت ہلاک ہوئی جا رہی ہے ۔ اس شخص کے خواب میں حضور ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا ! کہ تو حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کے پاس جا اور انہیں میرا سلام پہنچا اور ان کو خبر دے کہ لوگ بارش طلب کر رہے ہیں اور ان سے کہہ کہ دانائی کو لازم پکڑ ۔ چنانچہ یہ شخص ان کے پاس آیا اور ان کو اطلاع دی ۔ یہ سن کر حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! رو پڑے اور پھر فرمایا ۔ اے میرے رب! میں کوئی کو تاہی نہیں کرتا ہوں مگر یہ کہ میں اس کام سے عاجز آ جاؤں ۔ آپ نے مسلمانوں کے پاس اطلاع بھیجی اور حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اس بات سے رکے ہوئے تھے ( کہ دعا مانگیں ) اس کے بعد حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! نے کہا اللہ اکبر ! مصیبت اپنی مدت کو پہنچ گئی ، پس دور ہو گئی جب کسی قسم کیلئے طلب کرنے کی اجازت دے دی گئی تو ان سے مصیبت دور کر دی جاتی ہے ۔ شہر وں کے حکام کی طرف لکھا کہ اہل مدینہ کی اور جو لوگ مدینہ کے گردا گرد ہیں ان کی امداد کرو ، ان کی مشقت انتہا کو پہنچ چکی ہے اور لوگوں کو بارش طلب کرنے کیلئے نکالا ، خود بھی نکلے اور اپنے ساتھ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کو لیکر نکلے پا پیادہ چلے نہایت مختصر خطبہ دیا پھر نماز پڑھی اور اس کے بعد گھٹنے کے بل بیٹھ گئے اور کہا اے میرے اللہ پاک! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اے میرے اللہ پاک! ہماری مغفرت کر دے اور ہم پر رحم کر اور ہم  سے راضی ہو جا اس کے بعد واپس ہوئے واپسی میں مکان نہیں پہنچے تھے یہاں تک کہ پانی کے کھلوں میں گھسنا  پڑا ۔

سود کے بعد پھر کیا ہوا

حال دل:۔
سود کے بعد پھر کیا ہوا ؟
ایک صاحب مجھے چبھتے چبھتے ا،لجھتے الجھتے ،اور اکتائے اکتائے، لہجے کے ساتھ کہنے لگے آپ اپنے درس میں سود کی باتیں کرتے ہیں ، ساری دنیا کی معیشت سود پر چل رہی ہے آخر یہ سود کافروں کو نقصان کیوں نہیں دیتا ؟ اور مسلمانوں کو کیوں دیتا ہے؟ معذرت سے کہتا ہوں یہ آپ کا فوبیا ہے ! ( یعنی دوسرے لفظوں میں آپ خود بھی پاگل ہیں اور لوگوں کو بھی پاگل بنا رہے ہیں ۔) ان کی بات سن کر میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور مؤدبانہ درخواست کی کہ شاید آپ عالمی میڈیا سے رابطہ کم رکھتے ہیں ، اتنا زیادہ رابطہ میرا بھی نہیں لیکن جتنا رابطہ ہے اس رابطے نے انٹر نیشنل تاجروں کو یہ سوچنے  پر مجبور کر دیا ہے کہ سود کسی مذہب میں بھی جائز نہیں ، وہ ہندو مذہب ہو ، سکھ مذہب ہو ، عیسائی مذہب ہو ، یہودی مذہب ہو یا اسلام ہو ۔ تو سود سے اگر چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو تمام مذاہب کا مطالعہ کریں ، ورنہ پھر ہماری بات مان جائیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ریڈ رڈائجسٹ جو کہ انٹر نیشنل لاکھوں میں چھپنے والا واحد میگزین ہے اور جس میں غیر مصدقہ تحریر چھپنا کسی نے آج تک گمان بھی نہیں کیا کہ اس میں کوئی ادھر ادھر کی بات چھپ سکتی ہے ، سب تحریریں ا س میں تصدیق شدہ ہوتی ہیں ، اس میں ایک تجزیہ تھاجو مجھے ایک معتبر آدمی سے رسالے سمیت بتایا کہ اگر نائن الیون کے بعدجو عالمی حالات پیدا ہوئے ہیں معاشی بحران ، جنگیں ، نفرتیں اور غربت اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا ایک سیلاب ، یعنی اگر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو اپنی عالمی معیشت کو سود سے پاک کریں ۔جب میں نے ان کو یہ بات کہی انہیں میری بات کا یقین نہ آیا کہ یہ بات انگریز بھی کبھی کہہ سکتا ہے ۔ یا اس کے منہ سے کبھی نکل سکتی ہے ۔ میں نے اسے کہا کہ وہ خود حوالہ تلاش  کریں آخر وہ کھوجی حوالہ تلاش کر کہ لے آیا ۔ اور حیران و پریشان بیٹھا تھا اس کے بعد نامعلوم اسے کیا ہوا نیٹ کی دنیا میں گھوما اور اس نے پھر جو سود کے بارے میں عالمی دنیا کے تاثرات تجزیے تجربات اور منفی رویے تلاش کر کے مجھے دئیے وہ تو اتنے تھے کہ انسان سارے کام چھوڑ کر بس اسی کو پڑھنے بیٹھ جائے ، سود کے بعد زندگی میں کیا ہنگامے بر بادیاں، طوفان ،مسائل اور مشکلات پیدا ہوتے ہیں اس کو چھوٹا سا عکس میں اس خط کی مختصر تحریر سے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ! میرا گھر پرانے دھوبی گھاٹ کے قریب ہے ، میں اس راستے میں ذاتی تین مرلے کا مکان میں رہتی ہوں ، میرے سامنے فلاں قوم کے لوگ رہتے ہیں سود پر پیسہ لینا، دینا ان کا ایک خاندانی کام ہے ۔ اس کی نحوست جہاں ان کے گھر میں پہنچی وہاں میرے گھر میں بھی پہنچ رہی ہے ان کے گھر میں سارا دن لڑائی ، جھگڑا ، چھوٹی بڑی بات بہت بڑی اور گندی گالی دینا ان کیلئے کوئی حرج نہیں ۔ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانا عام سا مشغلہ ہے مرد عورت کوئی ادب لحاظ شرم حیا ان کے قریب سے نہیں گزرا ۔ ان کے گھر کا سر براہ گالی کے بغیر بات نہیں کرتا ۔ اس نے سب گھر والوں کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے ۔ سارا دن اونچی آواز میں بیٹا گانے لگاتا ہے جھومتا ہے گاتا ہے ناچتا ہے نیٹ کی دنیا میں سارا دن ڈوبار ہتا ہے نشے کی عادت اور لت پڑ گئی ہے ۔ اگر ہم ان کو آواز آہستہ کرنے کیلئے کہیں تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، لڑنے، مرنے اور مارنے پر آ جاتے ہیں ۔ انہوں نے گلی کو گندگی کا ڈھیر بنایا ہوا ہے ۔ یہ تو ان کے گھر کا مختصر سا حال ہے اور جو میرا حال ہے وہ یہ ہے کہ ان کی نحوست سے میری اولاد کی تربیت میں کمی پیدا ہو رہی ہے اور میری نسلیں متاثر ہو رہی ہیں ، ہر وقت میرے بچے ان کے بچوں کو دیکھتے ہیں ۔ اور ان کے بچے جو کرتے ہیں وہی میرے بچے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں نے محسوس کیا ہے جب سے میں نے یہاں تین مرلے کا گھر بنایا ہے میرے گھر میں رزق آتا ہے نا معلوم کہاں جاتا ہے جسے میں بے برکتی کہوں ۔ ہر وقت فتنہ فساد ، جھگڑے ، پریشانیاں ، بیماریاں ، دکھ ،تکلیفیں ،مسائل ،اور مشکلات یہ ساری چیزیں میرے گھر میں اتنی ہو گئی ہیں کہ میں نے زندگی بھر کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایسے کبھی ہو بھی سکتا ہے میں سمجھتی ہوں یہ برے پڑوسی کی نحوست اور ان کے برے رزق ، بری سوچیں ، برے خیال اور برے کردار کی ظلمت ہے جو میرے گھر میں آ رہی ہے  ۔ آپ دعا فرمائیں میں یہ گھر فروخت کر کے کسی اور جگہ چلی جاؤں ، میں تھک گئی ہوں ،اکتا گئی ہوں ، پریشان ہوں ، میں کیا کروں ؟ سچ ہے بڑوں سے سنا تھا کہ گھر ڈھونڈنے سے پہلے اچھا پڑوسی ڈھونڈیں برا پڑوسی جہاں ہو اور کوڑیوں کے بھاؤتمہیں تاج محل بھی مل رہا ہو کبھی نہ لینا ، کبھی نہ لینا ،کبھی بھی نہ لینا۔

Friday, October 2, 2015

ماہنامہ عبقری اکتوبر 2015ء شمارہ نمبر 112

Ubqari Magazine October 2015



ماہنامہ عبقری اکتوبر 2015ء شمارہ نمبر 112
6 نفل اور 6 ہزار بلائیں دور۔
شاہ غوث او چوی ؒ کے مستند روحانی وظائف۔
شہد! قدرت کا لاجواب تحفہ بے مثال فوائد۔
قارئین کے طبی و روحانی سوال اور قارئین کے جواب۔
جسمانی بیماریوں کا شافی علاج ۔
میری زندگی کیسے بدلی؟
آنسوؤں سے لبریز دعائیں اور مقدمہ قتل حل۔
ایام عید میں حضرت حکیم صاحب کی انتہائی مصروفیات۔
فیس بک نہیں ! اہل خانہ کو وقت دیں اور پھر سکون دیکھیں ۔
چند دنوں میں سمارٹ ، سلم اور پرکشش بننے کا نسخہ۔
اسلام کے دستر خوا ن کے یہ نووارد مہمان۔
یاقہار پڑھا ازدواجی مسائل بالکل ختم۔
قارئین لائے انوکھے اور آزمودہ ٹوٹکے۔
لائف سٹائل تبدیل کریں ! صحت مند زندگی گزاریں ۔
گمشدہ چیز فرد اور سرمایہ پانے کا وظیفہ۔

Wednesday, September 30, 2015

اغوا شدہ بھتیجا وظیفے کی برکت سے بازیاب

اغوا شدہ بھتیجا وظیفے کی برکت سے بازیاب:۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ پاک آپ کو آپ کی تمام نسلوں کو خوش اور آباد رکھے آپ کا ماہنامہ عبقری اس دور میں امید کا چراغ ہے جو ہر ماہ لاکھوں گھروں کو روشن کرتا ہے اس میں چھپے ہوئے وظائف اور دعائیں بہت سے دکھی لوگوں کا سہارا بن گئی ہیں ۔ اس میں موجود آپ کے روحانی آرٹیکل گمشدہ چیز فرد سرمایہ پانے کا وظیفہ ہم نے خود آزمایا ہے ۔ میرا بھتیجا پچھلے سال اغوا ہو گیا تھا ، جب وہ اغوا ہوا ہم نے اسی دن سے ۔۔۔۔۔ کھلا پڑھنا شروع کر دیا  ہمارے گھر کے ہر فرد کی زبان پر یہ ورد رواں رہتا تھا ۔ چار ماہ مسلسل ہم نے یہ ورد کیا تو چار ماہ کے بعد ان لوگوں نے اس کو چھوڑا ہے ۔ الحمدللہ ! وہ صحیح سلامت آ گیا ، اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے ہمیں اس وظیفے کی برکت سے ہمارا بچہ بغیر کسی تاوان کے واپس کر دیا ۔ عبقری کی دوائیں خاص طور پر روحانی پھکی اور ستر شفائیں ہم لوگ با قاعدگی سے استعمال کرتے ہیں اس سے ہائی بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے ۔ بہت فائدے کی چیز ہے

گھر بلا کر پیسے دے دئیے

گھر بلا کر پیسے دے دئیے:۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں اور میری والدہ آپکا رسالہ عبقری بڑے شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ابھی مہینے کا آخر ہی ہوتا ہے کہ میری والدہ بار بار مجھے کہتی ہیں کہ جا کر بک سٹال پر پتہ کر کے آؤ عبقری آ گیا کہ نہیں ۔ الحمدللہ ! اس میں موجود وظائف اور نسخہ جات سے ہم خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ میری والدہ اس میں موجود وظائف اور نسخہ جات رشتہ داروں اور ہمسایوں کو خوب بتاتی ہیں ۔ جن سے انہیں لاجواب فوائد حاص ہوتے ہیں ۔ خاص کر آپ کے روحانی آرٹیکل سے وظیفہ ۔۔۔۔۔ نے تو ہمارا چار سال پرانہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ۔ جس کی ہمیں بالکل بھی امید نہ تھی ۔ مسئلہ یہ تھا کہ لاہور میں ایک بندے نے تقریباً آٹھ لاکھ کے قریب ہمارے پیسے دینے تھے ۔ اور میں رقم کے حصول کیلئے یہی وظیفہ تقریباً تین ماہ پڑھا تو اس بندے کا مجھے فون آیا کہ میں آپ کے پیسے دینا چاہتا ہوں آپ میرے گھر لاہور آئیں ۔ فون سننے کے بعد تو جیسے میں سکتے میں ہی آ گیا کچھ دیر بعد حواس بحال ہوئے تو یہ بات میں نے اپنی والدہ کو بتائی جسے سن کر خوشی سے ان کے آنسو نکل گئے ۔ اگلے دن میں لاہور کیلئے روانہ ہوا اس شخص کے گھر گیا اس نے میرا بہت اکرام کیا اور مجھے میری رقم واپس کر دی۔

چوری شدہ 22 ہزار ایک ماہ بعد واپس مل گئے

چوری شدہ 22 ہزار ایک ماہ بعد واپس مل گئے :۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! عبقری رسالے پڑھتے مجھے دو سال ہوگئے ہیں ، اس دوران میں نے تسبیح خانہ میں آ کر آپ کے درس بھی سنے ، درس نے میری زندگی بدل دی۔ آپ کے درس اور وظائف کی برکت سے الحمدللہ زندگی کے مسائل مسائل نہیں رہے آپ نے اپنے درس میں ایک مرتبہ ایک وظیفہ۔۔۔۔۔بتایا تھا ۔ اس وظیفے کی برکات اگر میں لکھنا شروع کروں تو ختم ہی نہ ہوں ۔ یہاں میں صرف ایک واقعہ بتانا چاہوں گی کہ میرے گھر سے 22 ہزار وپے چوری ہوگئے تھے ۔ میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا ۔ دن رات ہزاروں کی تعداد میں پڑھتی رہی ۔ اللہ پاک کی رحمت سے وہ بائیس ہزار کام والی اٹھا کر لے گئی تھی ، ایک ماہ بعد واپس کر گئی کہ میری بیٹی نقلی پیسے سمجھ کر لے گئی تھی ۔ میں نے یہ وظیفہ یقین سے پڑھا اور ہر کسی سے کہتی تھی کہ مجھے اللہ پاک پر بھروسہ ہے ۔ میرے پیسے اس وظیفے کی برکت سے ضرور واپس مل جائیں گے اور اللہ پاک نے اپنے کلام کی برکت سے یہ سچ ثابت کر دیا ۔