زور دار طمانچہ ہبتن ناک قہقہہ اور سناٹا:۔
محترم حضرت حکمن صاحب السلام علکمہ!آج مںت جو واقعہ لکھ رہی ہوں مجھے قوی امدت ہے کہ اس کو پڑھ کر لوگ ینری نہںا کریں گے ۔ خواہ انہںج محض لفاظ ہی سمجھں لکنے یہ سب کچھ سو فصدت سچ اور حققتو پر مبنی ہے اور اس کے گواہ مرای امی الحمدللہ حایت ہںی ۔ یہ واقعہ مرنی امی نے ہماری نانی سے سنا ہے۔
ہمارے نانا حضرت جناب وحدن الدین بہت اللہ والے تھے ۔ کئی لوگوں کے آسبڑ کا علاج سورہ مزمل پڑھ کر کرتے تھے ۔ ایسے ہی نانی بھی نہایت عبادت گزار اور پرہزے گار تھںے ۔ ہمارے نانا کی شہرت آس پاس کے علاقوں مںگ بھی تھی ۔ نانا کے پڑوس مںھ گوپال نامی ہندو رہتا تھا۔ ایک دن وہ نانا کے پاس آیا ۔ نانا اس سے بہت اچھی طرح ملے ۔ آنے کا مقصد پوچھا ۔ اس نے بتایا کہ اسے کہںڑ سے پتہ چلا ہے کہ نانا کے گھر کے پچھلے حصے مںت خزانہ دفن ہے ۔ اگر نانا اس کا ساتھ دیں تو وہ دونوں کروڑ پتی بن سکتے ہںر ۔ نانایہ سب سن کر غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے یہ کہتے ہوئے گھر سے نکال دیا کہ اللہ پاک کا دیا ہمارے پاس سب کچھ ہے ، ایسے خزانوں پر جنوں کا قبضہ ہو تا ہے ۔ ہمںت اس سے کوئی سرو کار نہںہ ۔ گوپال مایوس ہو کر واپس چلا گات ۔ نانا نے اس سے بات چتھ بھی چھوڑ دی۔ کچھ عرصہ بعد ایک دن مغرب کے بعد نانا کھانا کھا رہے تھے کہ گو پا ل روتا دھوتا دروازے پر آیا اور ناناکے قدموں مںا گر کر رونے لگا نانا نانی حراان تھے تب گوپال نے روتے روتے کہا کہ اسے خواب آیا ہےکہ اسے مسلمان ہو جانا چاہے ۔ نانا نے اسے گلے لگا کر خوشی کا اظہار کای اور کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے کھانا چھوڑ کر نانا اسی وقت گوپال کو مسجد کے امام کے پاس لے گئے اور کلمہ پڑھایا ۔ نانا بہت خوش تھے کہ ایک ہندو مسلمان ہو گاس ۔ گو پال کی بوای ،بیات بھی مسلمان ہو گئے تھے ۔ نانا نانی نے ان کو تحائف بھی دیئے ۔ اصل مںم گوپال نے مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔ اس کے دل مںی خزانے کی ہوس تھی ۔ اسے کسی ہندو پنڈت نے بتایا تھا کہ کسی مسلمان کے خون کی بلی دو تو خزانہ تمہںگ مل سکتا ہے اور اگر مسلمان کمسن بچہ ہو تو اور اچھا ہے ۔ تب گوپال کے دل مںن شطاںنی منصوبہ آیا کہ مراے ماموں کی بلی دی جا سکے ۔ اس نے مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچایا تا کہ نانا کا اعتماد حاصل کر کے ماموں کی بلی دے سکے ۔ ماموں چار سال کے خوبصورت اور صحت مند بچے تھے ۔ اکثر ان کو گوپال کی بیےا اپنے گھر لے جاتی ۔ نانی بھی اعتراض نہ کرتی کوہنکہ وہ اب مسلمان ہو چکے تھے ۔ ایک روز ماموں دوپہر ہی سے گوپال کے گھر مںے تھے ۔ شام ہو گئی تھی نانا واپس آئے تو ماموں کا پوچھنے پر نانی نے بتایا کہ ماموں گوپال کے گھر مںی ہںن تب نانا نے بے زاری سے کہا کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے اسے واپس بلا لو۔ اتنی دیر اسے مت چھوڑا کرو ، نانی نے جا کر آواز لگائی تو کوئی نہ بولا ۔ تھوڑی دیر بعد نانا نانی پریشان ہو کر باہر نکلے تو ہاں تالا لگا دیکھا ، پڑوسواں سےپتہ چلا کہ گوپال تو گاؤں سے چلا گاے ہے ۔ نانی تو بے ہوش ہو گئںہ ۔ نانا اٹھے وضو کر کے نماز پڑھ کر آنکھںھ بند کر کے کچھ پڑھتے رہے ، ان کا چہرہ ٹمٹا نے لگا ، چہرے پر پریشانی آ گئی ، جھٹکے سے آنکھںل کھول کر عجلت مںا مںپ ابھی آیا کہہ کر باہر نکل گئے ۔ ان کا رخ کچھ دور قبرستان کی جانب تھاوہ کافی اندھرکی اور ڈراؤنی رات تھی ۔ قبروں کے ساتھ برگد کا ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا ۔ وہاں نانا نے درخت کے پاس ماموں کو کھڑے دیکھا ، ان کا سر منڈا ہوا اور جسم پر پلاد لمبا سا چغہ پہنا ہوا تھا اور ہاتھ مںٹ ایک رسی تھامے بڑے اطمناون سے کھڑے تھے ۔ بغرے کسی ڈر کے ۔ رسی ان کے ہاتھ سے ہوتی ہوئی شکستہ سی دیوارکے پچھے چلی گئی تھی جسے دوسری جانب سے بھی کوئی تھامے ہوئے تھے ، نانا سب سمجھ گئے سناٹے مں صرف گوپال کی ہلکی ہلکی آواز منتر پڑھتے ہوئے گونج رہی تھی ، تب ہی نانا نے دیکھا کہ وحشت ناک ، عجبم الخلقت چہرے والا ایک آسیہ وجود چختا ہوا اس رسی پر دوڑنے لگا ، کبھی وہ تزتی سے ماموں کی طرف آتا کبھی ویسے ہی چختے ہوئے واپس دیوار کے پچھے لوٹ جاتا ۔ اس کی آواز مںم جنون تھا ، جسےے وہ بہت بھوکا ہو ۔ نانا تزای سے آگے بڑھے اور آیۃ الکرسی پڑھتے ہوئے رسی کا سرا ماموں سے لے کر درخت سے باندھ دیا ۔ اسی لمحے نانا کو ایسے لگا کہ ماموں نندت سے جاگے ہوں وہ ابا جی کہہ کر ناناکی گود مںئ بے ہوش ہو کر گر گئے ۔ اسی لمحے وہ خوفناک وجود جو دوبارہ رسی پر دوڑ تا ہوا آیا اور رسی پرتز ی سے واپس پلٹا ۔اس بار اس کی چخا نہایت مکروہ اور دل دہلا دینے والی تھی ۔ نانا زور زور سے قرآنی آیات کو ورد کرنے لگے تب ہی ایک زور دار طمانچے کی آواز سے قبریں تک ہل گئںت ۔ ایک ہبت ناک قہقہہ گونجا اور سناٹا چھا گاھ ۔ نانا کو گھر لوٹنے کا خود بھی یاد نہںا۔ دوسری صبح قبرستان سے گوپال کی سفدی لٹھے کی مانند لاش ملی جسےا اس کا ایک ایک قطرہ خون نچوڑ لان گار ہو ۔ لاش کے منہ پر کسی غرئ انسانی ہاتھ کا بھر پور طمانچہ مارا گاو تھا ، وہ نانا کے بروقت پہنچنے اور قرآنی آیت کی برکت سے پڑا ، ورنہ وہ تھپڑ ماموں کے معصوم گالوں پر پڑھنے والا تھا ۔ بعد مںن گوپال کی بودی نے سچائی بتائی کہ گوپال پسےا کی حرص مںڑ اندھا ہو گاخ تھا ۔ یہ اللہ پاک کے لازوال کلام کی برکت سے ہوا کہ ماموں کی جان بچ گئی۔
Tuesday, October 6, 2015
اعصابی تناؤ تھکاوٹ اور بے خوابی ہمیشہ کیلئے دور
اعصابی تناؤ تھکاوٹ اور
بے خوابی ہمیشہ کیلئے دور :۔
دور حاضر میں ہماری مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ہر وقت
کوئی نہ کوئی کام کوئی نہ کوئی ذمہ داری مسلط رہتی ہے ۔ آرام و سکون ہم سے رخصت ہو
چکا ہے ۔ اور سبب غیر معمولی محنت و مشقت کو قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہ بات سو
فیصد درست نہیں ۔ اللہ پاک نے انسان کو کام کرنے کی لامحدود صلاحیت عطا کی ہے ۔
بشرطیہ کہ وہ اپنے جسمانی اعضاء کو ایک حد تک استعمال کریں ۔ اور تھکاوٹ اس وقت
محسوس ہوتی ہے جب کوئی کام کرتے کرتے طبیعت اکتا جاتی ہے اور پھر اس کام میں جی
نہیں لگتا ۔ اس تھکاوٹ کا تعلق جسم سے زیادہ ذہن سے ہوتا ہے اور اس سلسلے میں کام
کرتے وقت اگر دماغ کو کچھ سکون پہنچا لیں تو جلد تھکاوٹ محسوس نہیں ہو گی ۔ اس
کیلئے ضروری ہے کہ اپنے دماغ سے وہ تمام منفی خیالات دور کر لئے جائیں جو افسردگی
پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔ عام طور پر ہر شخص ایسا ہی کام کرنا چاہتا ہے جس میں
اس کا دل لگتا ہو، اس قسم کا کام وہ زیادہ بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے ۔
لیکن اس دنیا میں ہم تمام باتیں اور کام اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں کر
سکتے ، بعض اوقات ہمیں ایسے کاموں کے کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے جن کو ہم ناپسند
کرتے ہیں ۔ کام خواہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں نفرت اور ناپسندیدگی کی وجہ سے
ہمارے لئے بوجھ بن جاتے ہیں اور ہم جلد ہی تھک جاتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق یہ
تھکاوٹ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہوتی ہے ۔ اور اسے دور کرنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ
دماغ کو کچھ آرام اور سکون پہنچا نے کی کو شش کی جائے ۔ اعصاب کو ڈھیلا چھوڑ دیا
جائے اس کیلئے کچھ دیر تک آرام کرسی یا بستر پر پاؤں پھیلا کر لیٹنا مفید ثابت
ہوتا ہے ۔تھکاوٹ کو دور کرنے میں کھیلوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ دماغ و اعصاب کو
آرام پہنچانے کیلئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ کوئی ایسا کھیل کھیلا جائے جس میں طاقت
کم سے کم صرف ہو اور تفریح زیادہ سے زیادہ ، ماہریں کی طویل تحقیق سے یہ بات ثابت
ہوتی ہے کہ کھیلنے سے اعصابی تناؤ دور ہو جاتا ہے کیونکہ کھیل جزباتی گھٹن کے
اخراج میں معاون ہوتے ہیں ۔ مقابلے کے کھیلوں میں نہ صرت دلچسپی کا عنصر زیادہ
ہوتا ہے بلکہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے ملنے جلنے اور بہتر تعلقات قائم کرنے کا
بھی موقع ملتا ہے ۔کھیلتے وقت ذہن سے ہر طرح کے منفی خیالات نکل جاتے یں اور زندگی
سے ایک نئی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے ۔ لیکن اس میں احتیاط یہ لازم ہے کہ آپ اپنے
لئے جو کھیل منتخب کریں وہ ایسے ہوں کہ آپ صحیح
معنوں میں دلچسپی لے سکیں اور اپنی تھکاوٹ دور کر سکیں ۔ اگر آپ بھاگ دوڑ
یا جسمانی محنت مشقت کا کام کرتےہیں تو ایسے کھیل کا انتخاب کریں جس میں جسمانی
مشقت نہ کرنی پڑے ۔ اسی
طرح اگر آپ دماغی کام کرتےہیں تو آپ کیلئے ایسے کھیل مناسب رہیں گے جن سے کچھ ہلکی
ورزش بھی ہو جائے اور آپ کو کھلی فضاء میں رہنے کا موقع ملے ۔ بعض لوگ جو ایک مدت
تک کسی ملازمت پر فائز رہنے
کے بعد ریٹائر ہوتے ہیں تو سالہا سال کی مصروف زندگی کے بعد جب بیکاری کا دور آتا
ہے تو یہ بیکاری انہیں ذہنی طور پر اتنا تھکا دیتی ہے کہ وہ زندگی بھر کام کرتے
ہوئے نہیں تھکے ہوتے۔ ایسے اشخاص کیلئے ضروری ہے کہ وہ کوئی مشغلہ اختیار کر لیں
تو یہ ذہنی تھکاوٹ ان پر مسلط نہیں ہو گی ۔ اس مقصد کیلئے جب تک کوئی مشغلہ معاون
ثابت ہو ٹھیک ہے ورنہ اس کے بعد اسے ترک کر کے کوئی اور مشغلہ اختیار کر لینا
چاہیے ، یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مذہبی رحجان ، مراقبہ اور عبادات سے جو
ذہنی سکون حاصل ہو سکتا ہے وہ دنیا بھر کے
مشاغل اپنا کر بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔ جسمانی اور ذہنی دونوں قسم کی
تھکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے نیند بے حد ضروری ہے ۔ اچھی اور پر سکون نیند ہماری
بہت سی اعصابی بیماریوں کا واحد علاج ہے ۔ اچھی نیند کیلئے ضروری ہے کہ ماحول پر
سکون اور بستر آرام دہ ہو ۔ سوتے وقت پریشان کن خیالات ذہن سے نکال دینے چاہئیں ۔
ایک عام آدمی کیلئے چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند کافی ہوتی ہے ۔ بہت سے لوگوں کو معاشی
پریشانیوں یا کسی اور وجہ سے نیند جلد نہیں آتی اور وہ بستر پر پڑے دیر تک کروٹیں
بدلتے رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ بستر پر کروٹیں بدلنے کے بجائے اپنے
ہاتھ پاؤ ں پوری طرح پھیلا لیں ۔ اس طرح اعصابی تناؤ دور ہو جانے سے انہیں بہت جلد
نیند آ جائے گی ۔ ہاتھ سینے پر رکھ کر اور پاؤں سکیڑ کر سونے سے جسم اور اعصاب
کوپوری طرح سکون حاصل نہیں ہو پاتا اس لئے اس حالت میں سونے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اعصابی تناؤ ، ذہنی و جسمانی تھکاوٹ ، ضعف دماغ اور ذہنی سکون کیلئے ذیل میں صدیوں
پرانہ ایک نسخہ تحریر کیا جا رہا ہے جس کی افادیت سے طب قدیم و جدید کے معالجین
معترف ہیں ۔
مغز بادام پانچ عدد ، مغز تخم کدو شیریں ، تخم خشخاش ، تل
سفید ہر ایک تین گرام پانی یا دودھ کی مدد سے تمام اشیاء کو باریک پیس لیں یا
بلینڈر کر لیں اور حسب ضرورت پانی یا دودھ کا اضافہ کر کے چھان لیں اور کسی شربت
یا چینی سے میٹھا کر کے یا بنا میٹھا کئے صبح خالی پیٹ استعمال کریں ۔ اس نسخہ کے
مستقل استعمال سے دماغ و نظر کو طاقت حاصل ہوتی ہے ۔ اعصابی تناؤ ، تھکاوٹ اور بے
خوابی دور ہو کر مکمل سکون حاصل ہو جاتا ہے ۔
آزمودہ دیسی ٹوٹکوں سے خوشگوار سرما گزارئیے
اکتوبر چل رہا ہے اور سردیوں کی آمد آمد ہے اور اس میں نزلہ
اور زکام جس سے ہر ایک کا واسطہ پڑتا ہے، عام ہو جاتا ہے۔ اسے چھوت دار بیماری کہا
جاتا ہے جو ایک سے دوسرے کو لگ جاتی ہے ، اس لئے چھینکنے یا جمائی لیتے وقت منہ پر
رومال یا ہاتھ رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ یہ بہت عام مرض ہے اس کے جراثیم ہی اس
کا سبب ہیں ۔
نزلہ اور زکام میں
فرق:۔ ان میں فرق یہ ہے کہ
جب ناک سے پتلی رطوبت نکلے اور ناک میں ہلکی جلن ہو تو اسے زکام کہتے ہیں جبکہ
رطوبت یا مادہ حلق میں گرے تو اسے نزلہ کہتے ہیں ۔ نزلہ اور زکام کی ابتدا میں گلے
میں ہلکی خراش ، سینے میں جلن ، چھینکوں کا آنا ، کھانسی کا آنا ، اور جب یہ مرض
شدید ہو تو اعصاب شکنی نبض کا تیز اور پیاس کا لگنا ہے ۔
علاج:۔ طب کی دینا میں اس کا کوئی فوری اور موثر علاج موجود نہیں
ہے اس کے جراثیموں پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی ۔ اس کا اصل علاج احتیاط اور آرام ہے
۔ اطباء کی رائے میں نزلے کی بنیادی وجہ تھکن ہے اس لئے اس کا بنیادی علاج آرام ہی
ہے ۔ اس کے آثار ہوتے ہی بستر میں آرام سے لیٹ جانا چاہیے اس کے علاوہ سردی سے
بچنا ، ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈے مشروبات کے استعمال سے پرہیز ہے ۔ پانی ہلکا گرم کر
کے استعمال کیا جائے جو شاندہ یا بنفشہ کی چائے استعمال کرنی چاہیے ۔ اگر حلق میں زیادہ
سوزش اور خراش ہو تو عناب ، بہی دانہ ، شربت نفشہ میں ملا کر پینے سے سوزش اور
خراش ختم ہو جاتی ہے ۔ نزلہ اور زکام میں بھنے ہوئے چنے چھلکے سمیت کھانا بھی بہت
مفید ہے لیکن اوپر چائےیا پانی نہیں پینا چاہیے۔
نزلہ کا دیسی علاج:۔ ایک تولہ سونف اور پانچ سے آٹھ دانے لونگ دو کلو پانی میں
ڈال کر چولہے پر جوش دیجئے اور جب پانی 250 گرام باقی رہ جائے تو پھر اس میں مصری
ڈال کر چائے کی طرح پینے سے نزلہ زکام دور ہو جاتا ہے ۔
نزلہ کھولنے کیلئے :۔ بعض اوقات نزلہ کی شدت سے ناک بند ہو جاتی ہے تو اس کیلئے
دہکتے کوئلوں پر پسی ہوئی ہلدی ڈال کر دھونی لینے سے ناک کھل جاتی ہے ۔
غذائی اشیاء:۔ غذائی اشیاء میں چکنی غذائیں ، دودھ، اور ترش چیزوں سے
بچنا چاہیے ، بکری کے گوشت کی یخنی اور کالے چنے کی یخنی لینی چاہیے تاکہ پانی کے
ساتھ ساتھ زود ہضم خوراک بھی ملتی رہے ۔ زکام کا حملہ بچوں پر زیادہ ہوتا ہے بچوں
کیلئے موثر دوا ہے ، مچھلی کا تیل ہے جو دن میں تقریباً تین تین قطرے دو سے تین
بار کچھ دن لگا تار پلانے سے نزلہ زکام میں آرام آ جاتا ہے۔
سردیاں ! زکام اور میرے
آزمودہ ٹوٹکے:۔ محترم حضرت
حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ پاک آپ کو اپنے اس فلاحی مشن کیلئے ہمیشہ اپنی رحمت
و کرم کے زیر سایہ رکھے۔ آمین! محترم ! میں 2011 سے عبقری کی قاری ہوں ۔ ہر ماہ اس
کے آنے کا شدت سے انتظار رہتا ہے سب سےپہلے تو میں عبقری کا قرض ادا کرنا چاہتی
ہوں ۔جیسا کہ موسم سرما کی آمد ہے اور ہر چھوٹا بڑا نزلہ و زکام و کھانسی کا شکار
ہے میرے پاس چند آزمودہ نسخہ جات ہیں جو نہایت فائدہ مند ہیں انہیں میں نے وقتاً
فوقتاً خود استعمال کیا ہے ۔
چھینکیں گلے میں خراش
کھانسی:۔ یعنی جب نزلہ زکام
کی ابتدا ہو یا نزلہ زکام ہو گیا ہو تو ڈیڑھ کپ پانی لیں ، آدھے انچ کے دو یا تین
ٹکڑے ادرک اور چھوٹا سا ٹکڑا دار چینی لےکر پانی میں جوش دیں جب تقریباً ایک کپ رہ جائے تھوڑی سی سبز چائے کی پتی ڈال کر
اتار لیں ، تین چار منٹ کے بعد کپ میں چھان کر شہد دو چمچ ڈا ل کر پئیں ،
انشاءاللہ ناک سے پانی بہنا بند ہو جائے گا اور گلے میں واضح فرق محسوس ہو گا یہ چائے تین چار دن تک صبح و شام لیں ،
انشاءاللہ کسی دوائی کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی ۔
خشک کھانسی جو رات کو
سونے نہ دے:۔ ایک چمچ شہد لیں اور
چھ سات دانے کالی مرچ پیس کر ملا کر کھائیں ، انشاءاللہ کھانسی میں سکون ملے گا
اور چند دن استعمال سے ختم ہو جائے گی ۔
نزلہ زکام اور بلغم
کیلئے :۔ ایک گلاس دودھ کو
ابالیں اس کے بعد پانچ منٹ تک تھوڑا ٹھنڈا کریں ، پھر بلینڈر میں ڈال دیں اور ایک
عدد انڈا کچا ڈال دیں اور مناسب چینی چھوٹی الائچی کے دانے ڈال کر ملک شیک کی طرح
بنا لیں اور چائے کی طرح گرم گرم پی کر سو جائیں اور صبح نہار منہ بھی لیں مزیدار
دودھ طاقتور بھی اور بہترین علاج بھی بلغم پک کر خارج ہو گا چند دن استعمال کے بعد
نزلہ بھی ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ۔
زکام اور کھانسی کی ہر
قسم کیلئے:۔ پانچ کھانے کے چمچ
خشخاش ، بادام چھ عدد ، چھوٹی الائچی دو عدد ، خشخاش کو صاف کر کے بادام اور
الائچی کے ساتھ گھوٹا بادام کی طرح خوب رگڑیں پھر ایک گلاس پانی ڈال کر ابالیں جب
آدھا گلاس پانی رہ جائے آدھ کلو دودھ ڈال کر تین جوش دیں ۔ یاد رہے چینی جتنی دل
چاہے ڈالیں ، نیم گرم دودھ چھان کر رات کو آدھا سوتے وقت پی لیں آدھا صبح نہار منہ
لیں انشاءاللہ مزیدار اور سکون بخش دودھ سے سکون پائیں ۔
پیٹ کا درد ، گیس اور
سوجن کیلئے :۔ آزمودہ مجرب ٹوٹکہ خشک دھنیا ، ایک پیالی، سونف
ایک پیالی، چھوٹی الائچی چھ عدد ، کالی مرچ دس عدد ، سب چیزوں کو صاف کر کے پیس
لیں اور مناسب میٹھا یعنی چینی یا مصری ملا کر رکھ لیں بوقت ضرورت ایک کھانے والا
چمچ پانی کے ساتھ لیں ۔ میرے بچے ہاسٹل میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں سب بچے ان سے لیکر
استعمال کرتے ہیں فائدہ پاکر نسخہ پوچھتے ہیں کہ یہ تو جادو کی طرح ہے میں تو یہ سونف کپڑے میں چھان کر نومولودبچوں کو بھی
گیس ، اپھارے اور پیٹ کے درد کی صورت میں دیتی ہوں الحمدللہ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ،
چھوٹے بچوں کو ماں کے دودھ یا عرق سونف کے ساتھ دیتی ہوں ۔
Monday, October 5, 2015
احتیاط کریں!بچوں کو سردی کے مضر اثرات سے بچائیں
احتیاط کریں!بچوں کو
سردی کے مضر اثرات سے بچائیں:۔
بچےاللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں جنت کے پھول کہا ہے جس طرح ایک پھول نرم و نازک ہوتا ہے اور
اس کی بے انتہا حفاظت کی جاتی ہے ۔اسی طرح بچے کی صحت کی حفاظت ماں کی ذمہ داری ہے
۔ ہر ماں ممکنہ حد تک اپنے بچے کو صحت مند دیکھنا چاہتی ہے ۔ خصوصاً سردی کے موسم
میں تو اس کی پریشانی دیدنی ہوتی ہے ۔ اگرچہ
سردی کا موسم بہت پر لطف ہوتا ہے مگر چھوٹے بچوں کی ماؤں کیلئے بالکل بھی
نہیں ۔ خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کی پہلی سردیاں اور پہلی گرمیاں بہت مشکل ہوتی
ہیں اس لئے سبھی مائیں اپنے بچوں کو سردی و گرمی کے مضر اثرات سے بچانےکی کوشش میں
رہتی ہیں ۔ آج کل سردی کا موسم اپنے جوبن پر ہے اور نزلہ و زکام ، بخار عام طور پر
بچوں کو اپنی پکڑ میں لے لیتا ہے ۔
بچوں کو ٹھنڈ لگ جانا:۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے ۔ اس سے بچوں میں بخار ، گلا خراب
اور سینے کے امراض خصوصاً نمونیے کا خطرہ
بڑھ جاتا ہے اور نمونیہ کافی مہلک مرض ہے ۔ آج کل پولیو کے قطروں کے ساتھ نمونیے
سے بچاؤ کے ٹیکے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔ ٹھنڈ لگنے کی وجوہات کیا ہیں ؟ سب سے بڑی وجہ
بچوں کا گیلا رہنا ہے ۔ مناسب کپڑے نہ پہنانے کی وجہ سے ٹھنڈ لگ جاتی ہے یعنی اگر
کم گرم کپڑے ہیں تو ٹھنڈ لگنے کے امکانات زیادہ ہیں ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بچوں
کو مکمل طور پر ڈھانپ کا رکھیں خصو صاً سخت سردی میں ۔ سر ، گردن ، سینہ اور پاؤں
مکمل طور پر گرم کپڑوں میں لپٹے ہوں ۔ مائیں عام طور پر سوئیٹر اور پاجامہ پہنا کر
سمجھتی ہیں کہ ہم نے بچوں کو گرم کپڑے پہنائے ہوئے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے ۔ جو بچہ
گود میں ہے اسے گرم کمبل یا شال میں لپیٹ کر کمرے سے باہر نکالیں خصوصاً را ت کو
ٹھنڈ زیادہ ہوتی ہے اس لئے رات کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیئے ، بچے کو کھلی کھڑکی
یا دروازے کے قریب مت لٹائیں جہاں سے ہوا سیدھی اندر آتی ہے اس سے بھی ٹھنڈ لگ
جاتی ہے۔
بچوں کو نہلانا:۔ سردی کے موسم میں بچوں کو بہت احتیاط سے نہلانا چاہیئے جس
جگہ پر بچے کو نہلائیں وہاں ہیٹر یا
انگیٹھی سلگا کر کمرہ یا غسل خانہ گرم کر لیں ۔ پانی نیم گرم کریں اور اسے اپنے
ہاتھ یا بازہ پر ڈال کر چیک کر لیں کہ زیادہ گرم یا ٹھنڈا نہ ہو۔ نہلانے کے بعد
کپڑے بھی اسی گرم کمرے میں پہنائیں اور
اچھی طرح ڈھانپ کر بچے کو باہر لائیں ۔ بچوں کو دھوپ میں بٹھائیں اس سے ان کی نشو
نما پر اچھا اثر پڑے گا اور وٹامن ڈی بھی حاصل ہو گی ۔ ماں کا دودھ بچے کا بنیادی
حق ہے او ر صحت بخش غذا ہے ۔ بچے کو اس حق سے محروم نہ کریں ۔ سردی کے موسم میں
ماں کا دودھ پینے والے بچے اور ماں دونوں آرام سے رہتے ہیں ۔
نزلہ و زکام بخار :۔ اگر بچے بے احتیاطی کی وجہ سے بیمار ہو جائیں تو پریشان مت
ہوں ۔ ایک ماں کو بہت حوصلہ مند ہونا چاہیے ۔ اور اپنی پوری توجہ بچے پر دینی
چاہیئے ۔ سردی کو موسم میں اگر ناک بند ہو تو بچوں کو دو تین دفعہ سادے پانی سے
بھاپ دیں اس سے ان کی ناک بند نہیں ہو گی اور وہ سکون سے سوئیں گے ۔ کھانسی لگنے
کی صورت میں تھوڑے سے گرم پانی میں شہد ملا کر پلائیں ۔ اگر بچے کو تیز تیز سانس آ
رہا ہو یا اس کی پسلیاں تیز تیز چلنے لگیں یا سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہو تو
اسے فوراً بچوں کے ڈاکٹر کو دکھائیں یہ نمونیہ کی علامت ہے۔
شیر خوار بھی صحیح اور
غلط میں تمیز کر سکتے ہیں:۔
کہا یہ جاتا ہے کہ اچھے اور برےمیں تمیز کرنے کی صلاحیت ہی دراصل وہ خوبی ہے جو
انسانوں کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور ایک جدید تحقیق ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کمسن
شیر خوار بچے بھی قدرت کی ودیعت کردہ اس صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ اس ریسرچ
سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جو شیر خوار بچے صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت
رکھتے ہیں ، وہ دوسروں کو اپنی چیزوں میں شریک کرنے کا جزبہ بھی رکھتے ہیں ۔ اس
تحقیق میں حصہ لینے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ جن دودھ پیتے بچوں پر یہ ریسرچ
کی گئی تھی وہ غذا کی مساوی اور غیر مساوی تقسیم کے درمیان فرق کو سمجھ رہے تھے ۔
جس سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ زندگی کے ابتدائی دنوں ہی میں انہیں انصاف پسندی سے
آگاہی ہو چکی تھی ۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچہ جتنا زیادہ منصف مزاج تھا ، اتنا
ہی وہ دوسرے بچوں کو اپنی چیزوں مثلاً کھلونوں کے استعمال کی اجازت دینے میں فراخ
دل تھا ۔ نفسیات کےپروفیسر سمر ویل نے بتا یا کہ اس ریسرچ سے ہم نے جو نتائج اخذ کئے
ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہےکہ منصف مزاجی اور ایثار پسندی کی خوبیاں اس وقت سے کہیں پہلے
بچوں میں آ جاتی ہیں جن کے بارے ہیں ہم گمان کر رہے تھے ۔ ہم نے دیکھا کہ جو بچے
غذا کی منصفانہ تقسیم کے معاملے میں زیادہ حساس تھے ، وہی بچے اپنے پسندیدہ کھلونے
دوسرے بچوں کو دینے میں زیادہ خوش دلی کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ رپورٹ میں بتا یا
گیا ہے کہ 15 ماہ کو بچوں کو مختصر دورانیے کی دو ویڈیو فلمیں دکھائی گئی تھیں ۔
پہلی ویڈیو میں خستہ کرارے بسکٹ سے بھرے پیالے دو افراد میں تقسیم کرتے ہوئے
دکھائے گئے تھے ۔ پہلی مرتبہ یکساں تعداد میں بسکٹ دونوں کو دیے گئے لیکن دوسری
مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کے مقابلے میں کم بسکٹ دیئے گئے ۔ اسی طرح دوسری ویڈیو فلم
میں دودھ سے بھر اایک جگ ان دونوں افراد میں اسی انداز میں تقسیم کرتے ہوئے دکھایا
گیا تھا ۔ جس وقت بچوں کو یہ دو ویڈیوز دکھائی جا رہی تھیں اس وقت موقع پر موجود
سائنسدان یہ دیکھ رہے تھے کہ ان میں سے ہر ایک بچے نے غذا کی تقسیم کے مناظر کو
کتنی دیر تک ٹکٹکی باندھے دیکھا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شیر خوار بچے حیران
ہوتے ہیں تو وہ کسی بھی حیران کرنے والی چیز یا منظر کو زیادہ دیر تک زیادہ توجہ
سے دیکھتے ہیں ۔ ان سائنسدانوں نے یہ دیکھا کہ جب ایک شخص کو دوسرے سے زیادہ خوراک
دی جا رہی تھی تو بعض بچوں نے یہ منظر دیکھنے میں زیادہ وقت صرف کیا۔ ڈاکٹر سمرویل
نے بتایا کہ شیر خوار بچوں کو یہ توقع تھی کہ خوراک منصفانہ طور پر تقسیم کی جائے
گی اور جب ایک شخص کو دوسرے کے مقابے میں زیادہ بسکٹ اور زیادہ دودھ دیا گیا تو ان
کی حیرانی دیدنی تھی ۔ اس سے پہلے کے طبی جائزوں میں دیکھایا گیا تھا کہ دو سالہ
بچوں میں اپنے ہم عمر بچوں کی مدد کا جزبہ پایا جاتا ہے جو دراصل ایثار پسندی کی
علامت ہے جبکہ چھ اور سات سال کی درمیانی عمر کے بچوں نے انصاف پسندی کا احساس
ظاہر کیا تھا۔ ڈاکٹر سمر ویل نے بتا یا کہ شیر خوار بچے جب دوسرے لوگوں کا ایک
دوسرے کے ساتھ سلوک اور رویہ دیکھتے ہیں تو اس مشاہدے سے ان میں بھی انصاف پسندی
اور ناانصافی کا احساس جنم لیتا ہے ۔ حالیہ تحقیق کے دوسرے مرحلے میں سائنسدانوں
نےیہ جائزہ لیا کہ یہ بچے کسی اجنبی کے ساتھ اپنا کھلونا شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں
یا نہیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ جو بچے خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم پر زیاادہ حیران
ہونے والے بچوں کے مقابلے میں ، دوسرے بچوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ کھلونے شیئر کرنے
کا جزبہ زیادہ تھا۔
صحابہ اہل بیت کی قبولیت دعا
صحابہ اہل بیت کی
قبولیت دعا:۔
حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ ہم حضرت
مقداد بن اسع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چلے ایک روز حضرت عمر و بن عبسہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ جانوروں کو چرانے کیلئے چلے تو میں دوپہر کو انہیں دیکھنے کیلئے
گیا پس اچانک ایک ابر نے ان پر سایہ ڈال رکھا تھا اور یہ ابر ان سے بالکل جدا نہ
تھا میں نے انہیں بیدار کیا تو انہو ں نے کہا یہ ایک ایسی شے ہے کہ اگر مجھے اس کی
خبر ہو گئی کہ تو نے اس بات کی کسی کو اطلاع دی تو میرے اور تیرے درمیان خیر نہیں
رہ جائے گی۔ راسی کہتے ہیں پس خدا کی قسم ! جب تک ان کی وفات نہ ہو گئی میں نے یہ
بات کسی سے نہیں کہی ۔
صحابہ کرام کی دعاؤں سے
بارش کا ہونا :۔حضرت انس رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد کے اس دروازہ سے داخل
ہوا جو ممبر کے سامنے تھا اور حضور ﷺ کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے وہ آپ ﷺ کے
سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جانور ہلاک ہو گئے اور راستے
بند ہو گئے آپ ﷺ اللہ سے ہم لوگوں کیلئے دعا فرمائیں کہ اللہ بارش دے ۔ حضرت انس
رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا اے میرے
اللہ ! ہم کو بارش دے، اے میرے اللہ! ہم کو بارش دے ، اے میرے اللہ ! ہم کو بارش
دے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ نے فرمایا! خدا کی قسم ! آسمان میں نہ ابر
دیکھ رہے تھے نہ ابر کا کوئی ٹکڑا اور نہ ہمارے اور سلع پہاڑی کے درمیان کوئی مکان
اور گھر تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سلع پہاڑی کے پیچھے سے
ڈھال کی مانند ایک ابر ظاہر ہوا، جب بیچوں بیچ آسمان پر پہنچا ، پھیل گیا ، پھر
برسا ۔ یہ کہتے ہیں خدا کی قسم ! اتنی بارش ہوئی کہ ہم نے چھ دن تک سورج نہیں
دیکھا ۔ پھر وہی شخص اسی دروازے سے اگلے جمعہ کو سامنے آیا اور حضور بنی کریمﷺ
کھڑے خطبہ فرمارہے تھے ۔ آپﷺ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ !
مال ہلاک ہو گئے راستہ بند ہو گیا ۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ بارش کو روک دے ۔ حضرت
انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ مبارک اٹھائے اور
فرمایا ! اے میرے اللہ ! ہمارے پاس ہو ہم پر نہیں ،ٹیلوں پر ہو، پہاڑوں پر ہو ،
پہاڑیوں پر ہو ، درخت کے اگنے کی جگہ پر ہو، حضرت انس رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کہتے
ہیں کہ فوراً بارش ختم ہو گئی اور ہم نکلے کہ دھوپ میں چل رہے تھے ۔ ایک دوسری
روایت میں اس طرح ہے کہ میں نے ابر کو دیکھا کہ دائیں اور بائیں پھٹ گیا اور برس
رہا تھا اور اہل مدینہ پر نہیں برس رہا
تھا ۔ ایک اور روایت میں اس طرح جو ہی آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ہم
آسمان پر ابر کا کوئی ٹکڑا نہیں دیکھ رہے تھے ، پس قسم اس ذات کی کہ میرا نفس اس
کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی آپ ﷺ نے ہاتھ نہیں رکھے تھے یہاں تک کہ پہاڑوں کی مانند ابر
اٹھے اور ابھی آپ ﷺ ممبر پر سے نہیں اترے تھے یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ بارش آپ
ﷺ کی ڈاڑھی مبارک سے ٹپکنے لگی ۔ حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قصہ میں اس طرح
ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور واپس دونوں ہاتھ بھی لو
ٹائے نہیں تھے یہاں تک کہ فضا بدلی اور ابر آیا اور پھر برسا پس لوگوں نے ہر وہ
برتن بھر لیے جو ان کے پاس تھے ۔ پھر ہم چلے اور ہم نے غور سے دیکھا کہ اس بارش نے
لشکر سے تجاوز نہیں کیا تھا۔ خوات بن جبیر رضی اللہ تعالی ٰ عنہ ! نے فرمایا کہ
لوگوں کو حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کے زمانہ میں بہت سخت قحط پڑا آپ رضی اللہ
تعالیٰ عنہ ، لوگو ں کو لیکر نکلے او ران کو دو رکعت نماز پڑھائی اور اپنی چادر کو
اس طرح پلٹا کہ اس کا دایاں حصہ بائیں حصہ پر کر لیا اور بائیں حصہ پر دائیں حصہ
پر کر لیا ۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے
اور کہا اے میرے اللہ پاک! ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور تجھ سے بارش طلب کرتے
ہیں ابھی حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اپنی جگہ سے ہٹے نہیں تھے یہاں تک کہ بارش
ہو گئی ۔ لوگ اسی طرح پر تھے کہ دیہات سے کچھ لوگ آئے اور حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ ! کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا ہم فلاں دن فلاں وقت اپنی وادی میں تھے کہ اچانک
ہمارے اوپر ایک ابر آیا ۔ ہم نے اس ابر میں یہ آواز سنی اے ابو حفص! مدد آ گئی ،
اے ابو حفص مدد آگئی !( ابو حفص حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کی کنیت ہے) مالک
الدار بیان کرتے ہیں کہ حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کے زمانہ میں لوگوں کو قحط
لگا ۔ ایک شخص نے حضور ﷺ ! کے روضہ اقدس ﷺ کے پاس آ کر کہا یارسول اللہ ﷺ اپنی امت
کیلئے اللہ پاک سے بارش طلب کیجئے ۔ اس
لیے کہ آپ ﷺ کی امت ہلاک ہوئی جا رہی ہے ۔ اس شخص کے خواب میں حضور ﷺ تشریف لائے
اور آپ ﷺ نے فرمایا ! کہ تو حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کے پاس جا اور انہیں
میرا سلام پہنچا اور ان کو خبر دے کہ لوگ بارش طلب کر رہے ہیں اور ان سے کہہ کہ
دانائی کو لازم پکڑ ۔ چنانچہ یہ شخص ان کے پاس آیا اور ان کو اطلاع دی ۔ یہ سن کر
حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! رو پڑے اور پھر فرمایا ۔ اے میرے رب! میں کوئی کو
تاہی نہیں کرتا ہوں مگر یہ کہ میں اس کام سے عاجز آ جاؤں ۔ آپ نے مسلمانوں کے پاس
اطلاع بھیجی اور حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! اس بات سے رکے ہوئے تھے ( کہ دعا
مانگیں ) اس کے بعد حضر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! نے کہا اللہ اکبر ! مصیبت اپنی
مدت کو پہنچ گئی ، پس دور ہو گئی جب کسی قسم کیلئے طلب کرنے کی اجازت دے دی گئی تو
ان سے مصیبت دور کر دی جاتی ہے ۔ شہر وں کے حکام کی طرف لکھا کہ اہل مدینہ کی اور
جو لوگ مدینہ کے گردا گرد ہیں ان کی امداد کرو ، ان کی مشقت انتہا کو پہنچ چکی ہے
اور لوگوں کو بارش طلب کرنے کیلئے نکالا ، خود بھی نکلے اور اپنے ساتھ حضرت عباس
رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کو لیکر نکلے پا پیادہ چلے نہایت مختصر خطبہ دیا پھر نماز
پڑھی اور اس کے بعد گھٹنے کے بل بیٹھ گئے اور کہا اے میرے اللہ پاک! ہم تیری ہی
عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد طلب کرتے ہیں اے میرے اللہ پاک! ہماری مغفرت کر دے
اور ہم پر رحم کر اور ہم سے راضی ہو جا اس
کے بعد واپس ہوئے واپسی میں مکان نہیں پہنچے تھے یہاں تک کہ پانی کے کھلوں میں
گھسنا پڑا ۔
سود کے بعد پھر کیا ہوا
حال دل:۔
سود کے بعد پھر کیا ہوا
؟
ایک صاحب مجھے چبھتے چبھتے ا،لجھتے الجھتے ،اور اکتائے
اکتائے، لہجے کے ساتھ کہنے لگے آپ اپنے درس میں سود کی باتیں کرتے ہیں ، ساری دنیا
کی معیشت سود پر چل رہی ہے آخر یہ سود کافروں کو نقصان کیوں نہیں دیتا ؟ اور
مسلمانوں کو کیوں دیتا ہے؟ معذرت سے کہتا ہوں یہ آپ کا فوبیا ہے ! ( یعنی دوسرے
لفظوں میں آپ خود بھی پاگل ہیں اور لوگوں کو بھی پاگل بنا رہے ہیں ۔) ان کی بات سن
کر میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور مؤدبانہ درخواست کی کہ شاید آپ عالمی میڈیا سے رابطہ
کم رکھتے ہیں ، اتنا زیادہ رابطہ میرا بھی نہیں لیکن جتنا رابطہ ہے اس رابطے نے
انٹر نیشنل تاجروں کو یہ سوچنے پر مجبور
کر دیا ہے کہ سود کسی مذہب میں بھی جائز نہیں ، وہ ہندو مذہب ہو ، سکھ مذہب ہو ،
عیسائی مذہب ہو ، یہودی مذہب ہو یا اسلام ہو ۔ تو سود سے اگر چھٹکارا پانا چاہتے
ہیں تو تمام مذاہب کا مطالعہ کریں ، ورنہ پھر ہماری بات مان جائیں ۔ کچھ عرصہ پہلے
ریڈ رڈائجسٹ جو کہ انٹر نیشنل لاکھوں میں چھپنے والا واحد میگزین ہے اور جس میں
غیر مصدقہ تحریر چھپنا کسی نے آج تک گمان بھی نہیں کیا کہ اس میں کوئی ادھر ادھر
کی بات چھپ سکتی ہے ، سب تحریریں ا س میں تصدیق شدہ ہوتی ہیں ، اس میں ایک تجزیہ
تھاجو مجھے ایک معتبر آدمی سے رسالے سمیت بتایا کہ اگر نائن الیون کے بعدجو عالمی
حالات پیدا ہوئے ہیں معاشی بحران ، جنگیں ، نفرتیں اور غربت اور مہنگائی کا بڑھتا
ہوا ایک سیلاب ، یعنی اگر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو اپنی عالمی معیشت کو سود
سے پاک کریں ۔جب میں نے ان کو یہ بات کہی انہیں میری بات کا یقین نہ آیا کہ یہ بات
انگریز بھی کبھی کہہ سکتا ہے ۔ یا اس کے منہ سے کبھی نکل سکتی ہے ۔ میں نے اسے کہا
کہ وہ خود حوالہ تلاش کریں آخر وہ کھوجی
حوالہ تلاش کر کہ لے آیا ۔ اور حیران و پریشان بیٹھا تھا اس کے بعد نامعلوم اسے
کیا ہوا نیٹ کی دنیا میں گھوما اور اس نے پھر جو سود کے بارے میں عالمی دنیا کے
تاثرات تجزیے تجربات اور منفی رویے تلاش کر کے مجھے دئیے وہ تو اتنے تھے کہ انسان
سارے کام چھوڑ کر بس اسی کو پڑھنے بیٹھ جائے ، سود کے بعد زندگی میں کیا ہنگامے بر
بادیاں، طوفان ،مسائل اور مشکلات پیدا ہوتے ہیں اس کو چھوٹا سا عکس میں اس خط کی
مختصر تحریر سے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ! میرا گھر پرانے دھوبی گھاٹ کے قریب ہے
، میں اس راستے میں ذاتی تین مرلے کا مکان میں رہتی ہوں ، میرے سامنے فلاں قوم کے
لوگ رہتے ہیں سود پر پیسہ لینا، دینا ان کا ایک خاندانی کام ہے ۔ اس کی نحوست جہاں
ان کے گھر میں پہنچی وہاں میرے گھر میں بھی پہنچ رہی ہے ان کے گھر میں سارا دن
لڑائی ، جھگڑا ، چھوٹی بڑی بات بہت بڑی اور گندی گالی دینا ان کیلئے کوئی حرج نہیں
۔ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانا عام سا مشغلہ ہے مرد عورت کوئی ادب لحاظ شرم حیا ان کے
قریب سے نہیں گزرا ۔ ان کے گھر کا سر براہ گالی کے بغیر بات نہیں کرتا ۔ اس نے سب
گھر والوں کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے ۔ سارا دن اونچی آواز میں بیٹا گانے لگاتا
ہے جھومتا ہے گاتا ہے ناچتا ہے نیٹ کی دنیا میں سارا دن ڈوبار ہتا ہے نشے کی عادت
اور لت پڑ گئی ہے ۔ اگر ہم ان کو آواز آہستہ کرنے کیلئے کہیں تو ان کے کان پر جوں
تک نہیں رینگتی ، لڑنے، مرنے اور مارنے پر آ جاتے ہیں ۔ انہوں نے گلی کو گندگی کا
ڈھیر بنایا ہوا ہے ۔ یہ تو ان کے گھر کا مختصر سا حال ہے اور جو میرا حال ہے وہ یہ
ہے کہ ان کی نحوست سے میری اولاد کی تربیت میں کمی پیدا ہو رہی ہے اور میری نسلیں
متاثر ہو رہی ہیں ، ہر وقت میرے بچے ان کے بچوں کو دیکھتے ہیں ۔ اور ان کے بچے جو
کرتے ہیں وہی میرے بچے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں نے محسوس کیا ہے جب سے میں نے
یہاں تین مرلے کا گھر بنایا ہے میرے گھر میں رزق آتا ہے نا معلوم کہاں جاتا ہے جسے
میں بے برکتی کہوں ۔ ہر وقت فتنہ فساد ، جھگڑے ، پریشانیاں ، بیماریاں ، دکھ ،تکلیفیں
،مسائل ،اور مشکلات یہ ساری چیزیں میرے گھر میں اتنی ہو گئی ہیں کہ میں نے زندگی
بھر کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایسے کبھی ہو بھی سکتا ہے میں سمجھتی ہوں یہ برے پڑوسی
کی نحوست اور ان کے برے رزق ، بری سوچیں ، برے خیال اور برے کردار کی ظلمت ہے جو
میرے گھر میں آ رہی ہے ۔ آپ دعا فرمائیں
میں یہ گھر فروخت کر کے کسی اور جگہ چلی جاؤں ، میں تھک گئی ہوں ،اکتا گئی ہوں ،
پریشان ہوں ، میں کیا کروں ؟ سچ ہے بڑوں سے سنا تھا کہ گھر ڈھونڈنے سے پہلے اچھا
پڑوسی ڈھونڈیں برا پڑوسی جہاں ہو اور کوڑیوں کے بھاؤتمہیں تاج محل بھی مل رہا ہو
کبھی نہ لینا ، کبھی نہ لینا ،کبھی بھی نہ لینا۔
Friday, October 2, 2015
ماہنامہ عبقری اکتوبر 2015ء شمارہ نمبر 112
6 نفل اور 6 ہزار بلائیں دور۔
شاہ غوث او چوی ؒ کے مستند روحانی وظائف۔
شہد! قدرت کا لاجواب تحفہ بے مثال فوائد۔
قارئین کے طبی و روحانی سوال اور قارئین کے جواب۔
جسمانی بیماریوں کا شافی علاج ۔
میری زندگی کیسے بدلی؟
آنسوؤں سے لبریز دعائیں اور مقدمہ قتل حل۔
ایام عید میں حضرت حکیم صاحب کی انتہائی مصروفیات۔
فیس بک نہیں ! اہل خانہ کو وقت دیں اور پھر سکون دیکھیں ۔
چند دنوں میں سمارٹ ، سلم اور پرکشش بننے کا نسخہ۔
اسلام کے دستر خوا ن کے یہ نووارد مہمان۔
یاقہار پڑھا ازدواجی مسائل بالکل ختم۔
قارئین لائے انوکھے اور آزمودہ ٹوٹکے۔
لائف سٹائل تبدیل کریں ! صحت مند زندگی گزاریں ۔
گمشدہ چیز فرد اور سرمایہ پانے کا وظیفہ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

