Thursday, December 3, 2015

بچوں کی خراب لینگویج ! وجوہات و سد باب

بچوں کی خراب لینگویج ! وجوہات و سد باب  :۔



بچہ والدین کی پرچھائی ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کا ہر بنیادی طرز عمل گھر سے سیکھتا ہے ، ہمارے مذہب میں بچے کے پیدا ہونے پر اس کے کان میں اذان یعنی اللہ کا نام پکارا جاتا ہے تاکہ بچہ زندگی کا پہلا لفظ سنے تو اپنے تخلیق کرنے والے کو یاد رکھے اس کے کان میں والدین کے جملے ، باتیں اور گالم گلوچ بھی پڑتی ہے ۔ یہ سب Input اور Out put کا معاملہ ہے جو کچھ بچے کے کان میں Input ہو گا اس کے ہونٹوں سے Output کی صورت  سے باہر نکل آئے گا ۔ بچہ جو کچھ اپنے بڑوں سے سنتا ہے اس کے ذہن پر نقش ہو جاتا ہے اور پھر موقع محل ہو یا نہ ہو وہ انہی الفاظ کو دہرا دیتا ہے  خوف انسان کی جبلت میں شامل ہے ۔ بچے کو بری باتوں اور برے کاموں سے روکنے کیلئے اوائل عمر سے اسے ڈرایا جاتا ہے " یہ نہ کرو ورنہ اللہ آ جائے گا ۔ یا اگر تم یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ ماریں گے " اسی طرح بچے سے کوئی سچ اگلوانا ہو تو اسے اللہ کی قسم دلوانا بھی بڑے یا والدین سکھاتے ہیں ؟ بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے وہ اللہ کے خوف کو بھولتا جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی ، کی گئی غلطیوں پر کبھی اللہ نہیں آیا لیکن وہ اللہ کی قسم کو اپنی حفاظت یا بچت کیلئے استعمال کرتا ہے ۔ چھوٹی عمر میں بچے کو جھوٹ کے نقصان سمجھانا ایسا ہی ہے جیسا ہمالیہ کی چوٹی سر کرنا لہذا کوئی بھی شرارت بچہ کرتا ہے۔ وہ قسم کھا کر اس سے انکار کرتا اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے ۔ گھر میں اگر زائد بچے ہوں اور ان کے درمیان عمر کا فرق ہو تو ان کی آپس کی لڑائی اور گالم گلوچ کا طرز عمل ان کے والدین کے برعکس بن کر سامنے آتا ہے اور جب والدین اپنے چار سے دس برس کے بچوں کے منہ سے گالیاں قسمیں اور معیوب زبان سنتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بے خیالی یا نظر انداز نے پانی سر سے اونچا کر دیا ہے۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت کی مصداق اپنے بچوں کو بدگوئی سے بچانا عقدہ لایخل ہوتا ہے ۔ پر یہ سوچ کر اس تربیت پر گامزن ہو جاتے ہیں جس میں دیر تو ہو گئی ہے لیکن بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ کیا آپ والدین نے اس رخ پر کبھی سو چاہے یا نہیں ! توآج ہی سے اپنے بچوں پر نظر رکھئے اور مشاہدہ کیجئے کہ آپ سے کوتاہی کہاں ہوئی ۔ کیا آپ کے بچے نے یہ بدگوئی آپ سے سیکھی ہے ،یا بچے کی گفتگو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ان کے ماحول اور اردگرد موجود لوگوں ، والدین یا بڑوں کی گفتگو کے برعکس ہوتی ہے بچے اس تناظر میں توجہ حاصل کرنے کیلئے بھی ان جملوں کا استعمال کرتے ہیں جو بڑے اکثر بولتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ والدین انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں ، وہ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں بہت فکر مند اور ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ والدین کی آپس میں نوک جھونک ، طعنہ زنی ، گالم گلوچ یا غصے کی حالت میں برا بھلا کہنا بچو کو نہ صرف سراسیمہ کرتا ہے بلکہ وہ دماغی تناؤ کی صورت میں لاشعوری طور پر ان الفاظ کو دہراتے ہیں اور جب وہ کسی بات پر غصہ کرتے ہیں تو ان الفاظ کو دہرا دیتے ہیں ۔ اس قسم کے روہیے کو ماہر نفسیات Conduct Disorder کہتے ہیں ۔ اس قسم کے کیس میں بچہ گالم گلوچ کے علاوہ دوسری خراب عادتیں بھی سیکھتا ہے ۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ اس قسم کے بچوں میں نیو کیمیکل کی سطح کم ہوتی ہے ۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچے کا یہ رویہ غیر صحت مندانہ ہوتا ہے اور وہ اس رویہ کو کسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے استعمال کرتے ہیں ، جو ان کی شخصیت کو بگاڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ وہ اس شخصیت کے اس بگاڑ کو  Tic Disorder کہتے ہیں ۔ بچہ جسمانی ردعمل کا تیز رفتاری سے مظاہرہ کرتا ہے یعنی ٹکر مارنا ، تھپڑ مارنا وغیرہ ۔ اور دوسرا Vocal Tics ہے جس میں بچہ ان باتوں کو بار بار دہراتا ہے جس کا مطلب اسے معلوم بھی نہیں ہوتا ۔ وہ والدین جن میں ماہر نفسیات یا مشورہ سازوں کو بھاری بھر کم معاوضے دینے کی سکت نہیں ہوتی ان کیلئے کچھ ہدایات ہیں لیکن پہلے بچوں میں بری عادات پر نظر دوڑائیے آپ کو میڈیا کے برے اثرات کا بچے کے ذہن پر پڑنے کا بخوبی ادراک ہونا چاہیے ۔ بچوں میں بڑوں کا یا اپنے پسندیدہ ہیروز کی نقل کرنے کا رجحان ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے پسندیدہ کارٹون کرداروں کی نقل کرنا بھی پسند کرتے ہیں ۔بچے گفتگو کا بہت حصہ اپنی آیاؤں ، سکول بس ڈرائیور گھر میں کام کاج کرنے والی نوکرانیوں یا ماسیوں سے سیکھتے ہیں ۔ بہت سے تہذیب یافتہ والدین بھی منہ پھٹ ہوتے ہیں ۔ وہ نوکروں یا ڈرائیوروں کو گالم گلوچ سے نوازتے ہیں ۔ جس سے بچے بھی ان الفاظ کا استعمال سیکھتے ہیں ۔اس کے سدباب کیلئے سب سے پہلے آپ کوا س خراب زبان کو روکنا ہو گا ۔جو آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں ۔ یعنی ڈرائیور ، نوکروں یا اپنے پڑوسیوں سے بھی ۔ سب سے پہلے تو ان الفاظ کے معنی بچوں کو سمجھائیے انہیں بتائیے کہ یہ بہت غلط الفاظ ہیں ، آئندہ اگر انہوں نے یہ الفاظ کہے تو ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔اچھے اور پیار بھرے الفاظ خود بھی استعمال کیجئے بچوں کو بھی سکھائیے بچے اگر کوئی خراب لفظ غصے کی حالت میں بول رہے ہیں تو آپ ٹھنڈے مزاج سے اسے روکئے، اور سمجھائیے۔اسے پہلے پانی کا گلاس دیجئے اور سکون سے بٹھائیے۔ اس سے اسے غصہ کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی اور پھر آہستہ آہستہ اس کے الفاظ پر اسے سرزنش کیجئے۔ٹی وی پروگرام میں اگر کوئی بری بات یا خراب لینگوئج ہے تو فوراً اس پرسخت ردعمل کیجئے۔بچے کو بتائیے کہ ٹی وی پر کہے گئے الفاظ غلط ہیں اور جو کردار ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں وہ انتہائی برے ہیں اور ان کی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ بچے کو اچھی کتابیں پڑھنے کو دیجئے ، نصیحت آموز کہانیاں اور قصے ، بچوں کو بہت ساری اچھی باتیں سکھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔بچوں کو اچھے رول ماڈل دیجئے وہ ان کی تقلید میں خود بھی اچھے رول ماڈل بننے کی کوشش کریں گے ۔

امیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل و مناقب

امیر المومنین سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل و مناقب  :۔


آپ کرم اللہ وجہہ کا اسم گرامی علی۔ کنیت ابولحسن و ابو تراب، القاب اسد اللہ الغالب ، ؒحیدر اور المرتضیٰ ہیں۔ یہ تمام القلوب آپ کرم اللہ وجہہ کو حضور سید کونین ﷺ نے مختلف مواقع پر مرحمت فرمائے تھے ۔ آپ کرم اللہ وجہہ کی ولادت عام الفیل کے 7 برس بعد ہوئی ۔ آپ کرم اللہ وجہہ کا تعلق قبیلہ قریش کے معزز ترین خاندان بنو ہاشم سے تھا ۔ آپ کرم اللہ وجہہ نہ صرف حضور اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی بلکہ آپﷺ کے پروردہ بھی تھے ۔بچپن میں ہی آپ کرم اللہ وجہہ کے والد حضرت ابو طالب نے آپ کرم اللہ وجہہ کو اپنے بھتیجے حضور سید کونین ﷺ کے سپرد کر دیا تھا ۔ آپ کرم اللہ وجہہ کا شمار سابقین اولین کی صف اول میں ہے ۔  اسلام قبول کرنے والے بچوں میں آپ  کرم اللہ وجہہ کا پہلا نمبر ہے ۔ جبکہ آپ کرم اللہ وجہہ کی عمر 8 یا 10 برس تھی ۔ آپ کرم اللہ وجہہ کو ہجرت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر آپ کرم اللہ وجہہ حضور اقدس ﷺ کے حسب ارشاد لوگوں کی امانتیں ان کے حوالے کر کے وسط ربیع الاول 13 نبویؐ میں مدینہ منورہ پہنچے ، جب حضور اکرم ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو آپ کرم اللہ وجہہ کو حضرت سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ کا دینی بھائی بنایا تھا ۔ رجب 2 ہجری میں سرور کونین ﷺ نے 21 یا 24 سا ل کی عمر میں اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمۃالزہرا ء رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ کرم اللہ وجہہ کانکاح کیا ۔ اس وقت خاتون جنت رضی اللہ عنہا کی عمر 16 یا 19 برس تھی ۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے چیدہ چیدہ جہادی کارنامے ذکر کئے جاتے ہیں۔
٭غزوہ بدر (2ہجری) میں آپ کرم اللہ وجہہ نے قریش کے دو سردار، رہمناؤں ولید بن عتبہ اور شیبہ بن ربیعہ کو قتل کیا ۔ ٭ غزوہ احد (3 ہجری ) میں آپ کرم اللہ وجہہ لشکر اسلام کے میمنہ (دائیں حصے) کے امیر تھے ۔ حضرت سیدنا مسعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد علم آپ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ میں آیا ،کفار کے علمبردار ابو سعید بن طلحہ کی دعوت مبارزت کے نتیجے میں اس کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور اس کو واصل جہنم کر کےدم لیا ۔ اسی جنگ میں متعدد مشرکین کے علاوہ کفارہ کے چوٹی کے رہنما ابوالحکم کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔ جب گھاٹی پر متعین تیر اندازوں کی غلط فہمی سےجیتی ہوئی بازی ہارنے کا خطرہ پیدا ہوا تو جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میدان میں ثابت قدم رہے ان میں آپ کرم اللہ وجہہ بھی شامل تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کو سہارا دینے والے آپ کرم اللہ وجہہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ، جنگ کے اختتام پر حضورنبی اکرم ﷺ کے خون مبارک کو صاف کرنے کیلئے آپ کرم اللہ وجہہ ڈھال میں پانی بھر کر لاتے جاتے اور حضرت فاطمۃالزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا زخم کو دھوتی جاتی تھیں
٭غزوہ بنی نضیر (4ہجری) میں آپ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ میں لشکر اسلام کا علم تھا ۔ غزوہ خندق (5 ہجری) میں آپ کرم اللہ وجہہ نے قبیلہ بنو عامر کے مشہور جنگجو عمرو بن عبدود کو ، جو اکیلا ایک ہزار سواروں کے برابر سمجھا جاتا تھا ، قتل کیا ۔ اسی سال غزوہ خندق میں بدعہدی کرنے والوں کی سرکوبی کیلئے جو دستے بھیجے گئے ان کے علمبردار بھی آپ کرم اللہ وجہہ تھے  صلح حدیبیہ (6 ہجری ) میں صلح نامہ لکھنے کا شرف بھی آپ کرم اللہ وجہہ کو حاصل ہوا ، آپ کرم اللہ وجہہ نے گواء کے طور پر اس عہد نامے پر دستخط بھی فرمائے ۔ غزوہ خیبر (7 ہجری ) میں  خیبر کے 12 قلعوں میں سے ایک قلعہ حصن القموص کی فتح میں شدید دشواریاں پیش آئیں ، بالآخر یہ قلعہ آپ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھوں فتح ہوا ، اسی معرکے میں مرحب نامی مشہور جنگجو آپ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھوں اپنے انجام بد سے دو چار ہوکر واصل جہنم ہوا ۔ فتح مکہ (8 ہجری ) میں آپ کرم اللہ وجہہ نے بحکم نبی اکرم ﷺ ایک کافر کو قتل کیا ، اسی سال غزوہ حنین میں جب بنو ہوازن کےیکدم حملہ آور ہونے سے بھگدڑ مچ گئی تو آپ کرم اللہ وجہہ ثابت قدم رہے اور جان نثاری سے شجاعت کے جوہر دکھائے ، غزہ تبوک (8 ہجری) میں حضور اقدس ﷺ نے آپ کرم اللہ وجہہ کو اپنے خانگی معاملات اور کچھ انتظامی امور کی نگرانی کے حوالے سے مدینہ منورہ میں قیام کرنے اور جنگ میں حصہ نہ لینے کا حکم دیا۔ جسے تعمیل حکم میں آپ کرم اللہ وجہہ نے قبول فرمایا ، ورنہ آپ کرم اللہ وجہہ کی ذاتی خواہش جنگ میں بنفس نفیس شریک ہونے کی تھی ، اسی موقع پر آپ ﷺ نے یہ جملے ارشاد فرمائے ، اے علی کرم اللہ وجہہ ! کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم میری طرف سے اسی مرتبے پر ہو جس مرتبے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے حضرت ہارون علیہ السلام تھے ۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ حج ( 9 ہجری ) میں چند خاص اعلانات کیلئے حضور اکرم ﷺ نے آپ کرم اللہ وجہہ کو روانہ فرمایا واضح رہے کہ یہ حج حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی امارت میں ہوا تھا ۔
٭ حجۃ الوداع کے موقع پر 63 اونٹ تو آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے ذبح فرمائے جبکہ بقیہ اونٹ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ذبح فرمائے منیٰ میں آپ کرم اللہ وجہہ نے حضور اکرم ﷺ کے خطبات مجمع تک پہنچانے کیلئے معبر کے فرائض بھی انجام دیئے ۔ حضور اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد خلیفہ اول بلا فصل حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے آپ کرم اللہ وجہہ کو اموال خمس کی تقسیم کے سد باب کیلئے بھیجے جانے والے ایک دستے کا امیر بھی آپ کرم اللہ وجہہ کو مقرر فرمایا۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ کرم اللہ وجہہ کو ان تمام عہدوں پر برقرار رکھا اور مزید مناصب بھی عطا فرمائے جن میں قاضی کا منصب بھی شامل تھا۔ حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، نے بھی آپ کرم اللہ وجہہ کو سابقہ مناصب پر برقرار رکھا ، حدود کے تمام فیصلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عدالت میں ہوتے تھے ، جمع قرآن کا کام بھی آپ کرم اللہ وجہہ کے مشورے سے ہوا  حضرت شیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد 35 ہجری کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اتفاق رائے سے چوتھے خلیفہ راشد مقرر ہوئے ۔ آ پ کرم اللہ وجہہ نے اپنے پیشر و خلائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی پالیسیوں کو برقرار رکھا ، خلیفہ بننے کے تیسرے روز ہی سازشی سبائی ٹولے کو بلا کر فوری طور پر مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا ۔ یوں ان کے ارادوں پر پانی پھر گیا اسی روز سے وہ آپ کرم اللہ وجہہ کے بھی دشمن بن گئے ۔ ان کی سازشوں کے نتیجے میں مسلمانوں کے درمیان جنگوں تک کی نوبت بھی آئی ۔ جنگ نہروان میں خوارج کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اسی روز حرم مکہ میں ایک میٹنگ میں انہوں نے کبار صحابہ کرام رضی اللہ علیہم کو شہید کرنے کا منصوبہ تیار کیا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قتل کی ذمہ داری عبدالرحمن بن ملجم کو سونپی گئی ۔ منصوبے کے مطابق 17 رمضان المبارک 40 ہجری میں نماز فجر کے موقع پر اس بدبخت نے آپ کرم اللہ وجہہ کے سر کے اگلے حصے پر وار کیا ۔ آپ کرم اللہ وجہہ کی ریش مبارک خون سے رنگین ہوگی ، آپ کرم اللہ وجہہ شدید زخمی ہو گئے  اور 3 دن بعد شہادت کا عظیم رتبہ پایا ۔ مدت خلافت 4 سا 9 ماہ ہے ۔آپ کرم اللہ وجہہ کی تدفین کے موقع پر آپ کرم اللہ وجہہ کے بڑے صاحبزادے حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے جو خطبہ دیا اس میں ارشاد فرمایا لوگو تم سے ایک ایسا شخص رخصت ہو گیا جس سے اگلے علم میں پیش قدمی کر سکےنہ پچھلے اس کی برابری ، کر سکیں گئے ۔ رسول اللہ ﷺ اس کے ہاتھ میں اسلام کا جھنڈا دیا کرتے تھے اور اس کے ہاتھ پر فتح نصیب ہو جاتی تھی انہوں نے چاندی سونا کچھ نہیں چھوڑا صرف اپنے وظیفے میں سے 700 درہم ورثا کے لئے چھوڑے ہیں ۔ قارئین کرام ! یہ آپ کے زہد کی ایک ادنیٰ مثال ہے ۔ دوسری طرف آپ کرم اللہ وجہہ کی سخاوت بھی ضرب المثل  کی حثیت رکھتی ہے ۔ 40 ہزار دنیار سالانہ تو آپ کرم اللہ وجہہ زکوٰۃ کی مد میں ادا کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانان عالم کو اسد اللہ الغالب حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!

Wednesday, December 2, 2015

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام


اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔


ایک اللہ والے خط میں لکھتے ہیں اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کے متاثرین کو مفت معاوضے کی ادائیگی کیلئے حکومت نے یونین کونسل کی وساطت سے سرکاری ملازمین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں جو آرمی کی معاونت سے زلزلہ سے متاثرہ گھرانوں کو معاوضہ اور Death Clime  جاری کرتی تھی ۔ راقم بھی ایک ایسی ٹیم کا چیئرمین مقرر ہوا ، ٹوٹے ہوئے مکانات کے معاوضے کی ابتدائی قسط پچیس ہزار روپے اور ایسے گھرانے جن کے ہاں اموات ہوئی تھیں ان کے لئے فی آدمی ایک لاکھ روپے Death Clime مقرر ہوا۔ Death Clime کا ایک لاکھ روپے والا چیک گم ہو گیا ۔ میں بہت پریشان ہوا کیونکہ وہاں تو جعلسازی کا خطرہ تھا ۔ تمام نظام ڈسڑب تھے ، زلزلے نے سب کچھ تہہ و بالا کر دیا تھا ۔ ایسا چیک کوئی بھی کیش کرو اسکتا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ کل ڈپٹی کمشنر کو مکتوب لکھوں گا کہ فلاں نمبر کا چیک منسوخ کر دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بندہ اس چیک کو کیش کر وا لے ۔دو تین روز کے بعد اچانک میں نے واسکٹ چیک کی تو وہ چیک میری جیب میں موجود تھا حالانکہ میں پہلے چیک کر چکا تھا ۔ کوئی بندہ ڈال گیا تھا ۔ اللہ جل شانہ نے کسی جن کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ جاؤ وہ چو ر لے گیا تھا اس چور کی واسکٹ سے اس کی واسکٹ میں ڈال دیں ۔ رب آقا ہے ۔ ساری خدائی اس کے ماتحت ہے ۔ رب کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ رب سب کچھ کر سکتا ہے اس کے بعد وہ صاحب خط میں لکھتے ہیں کہ " میں نے اپنی سوچ کے دہارے بدل دیئے۔" 

غیبی امداد کا دوسرا واقعہ


غیبی امداد کا دوسرا واقعہ :۔


پہلی قسط تقسیم ہونے کے بعد دوبارہ ڈی سی آفس مظفر آباد گیا تاکہ مزید رقم ، چیک لا کر فہرست کے مطابق تقسیم کروں ۔ مظفر آباد ڈی سی آفس سے پچیس لاکھ روپے کیش اور پندرہ لاکھ روپ کے Death Clime چیک لے کر میں نے اپنے کپڑے کے تھیلے میں پیک کر کے اپنی موٹر سائیکل کے پیچھے رک دیئے تاکہ نیشنل بینک سے وہ Death Clime  چیک کیش کر لوں جب میں اپنے چچا کے گھر پہنچا ، تو دیکھا کہ موٹر سائیکل سے تو وہ تھیلا جو پیچھے  باندھا ہوا تھا غائب تھا ۔ جس تھیلے میں پچیس لاکھ روپے نقد اور پندرہ لاکھ روپے کی چیک تھے ۔
گمشدہ 25 لاکھ نقد اور 15 لاکھ کے چیک کی تلاش :۔ اب میں اسی راستے سے واپس ڈی سی آفس کی جانب سے روانہ ہوا جہاں سے آ رہا تھا ۔ راستے میں جگہ جگہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے بازار میں ، دکانداروں سے اور دیگر پیدل چلنے والے افراد سے پوچھتا رہا کہ آپ نے یہاں روڈ پر کوئی گرا ہوا تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ سب نے انکار کر دیا ۔
حواس باختہ کی رب سے فریاد:۔ ایک لمحے کیلئے ایسے محسوس ہوا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ اتنی بڑی گمشدہ رقم نے مجھے حواس باختہ کر دیا تھا ۔ میں کافی پریشان ہو گیا ۔ میں جب تلاش بسیار کے باوجود مکمل مایوس ہوا تو ہجوم سے ذرا ہٹ کر کھڑے ہو کر رب سے باتیں کیں کہ " اے اللہ اگر میں نے زندگی میں کوئی ایسا کام کیا جو تجھے پسند ہو تو مجھ پر رحم کر کیونکہ میں اب مجبور ہوں اور میری ساری جائیداد بھی اتنی نہیں کہ میں رقم کی ادائیگی کر سکوں اور پھر بات یہ ہے کہ مجبور لوگوں کا مال ہے اور رقم کی گمشدگی پر میرا کوئی یقین بھی نہیں کرے گا ۔ یااللہ تو ہی میرا مولا ہے ۔ بس تو ہی مجھ پر کرم فرما ۔ ( "اللہ والوں ! اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لو۔")
اور میری رقم مجھے مل گئی :۔ وہ صاحب خط میں مزید لکھتے ہیں کہ دعا مانگ کر میں اسی راستے پر ایک بار پھر موٹر سائیکل لے کر نکلا جس راستے پر پہلے ڈھونڈ ڈھانڈ کر آیا تھا ۔ اسی راستے میں لڑکوں کی ایک ٹولی کے پاس رکا ، ان سے پوچھا یہاں اس رنگ کا کوئی تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا ہاں دیکھا ہے ۔ ابھی کوئی 30 منٹ پہلے ایک لڑکا وہ تھیلا فلاں خیمہ بستی میں لے کر گیا ہے ۔ میں اس لڑکے کی نشاندہی پر اس بچے کے ساتھ خیمہ بستی گیا ۔ متعلقہ خیمے کے باہر کھڑے ہو کر آواز دینے لگا کہ وہ میرا تھیلا جو تمہارے بچے کو ملا ہے مجھے واپس دو اور وہ تھیلا اس رنگ کا ہے ۔ اندر خاتون موجود تھی ، میں نے اس خاتون سے کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تمہارا بچہ جو تھیلا لے کر آیا ہے وہ میرا ہے وہ مجھے دے دو ۔
رقم صحیح سلامت تھی :۔ 30 سیکنڈ کے انتظار کے بعد دوبارہ اس خاتون کے ہاتھ میں وہی تھیلا تھا اور بالکل کھلا ہوا نہیں تھا ۔ اور اس میں وہ سب کچھ موجود تھا جو میرا تھا اور جس کا میں امین تھا اور جو مجھے زلزلہ سے متاثرہ بے گھر لوگوں تک پہنچانا تھا ۔ آگے لکھتے ہیں کہ تھیلا دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے شکر کے آنسو نکلے ، سبحان اللہ ! سچے دل سے اور رزق حلال کھا کر مانگی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی ۔ آگے لکھتے ہیں میری امانت مجھے مل گئی ۔ وہ لڑکا جس نے تھیلے کی نشاندہی کی تھی پہلے اس سے جب میں پہلے چکر پر آیا تھا تب بھی میں نے اس سے پوچھا تھا اس نے تب بھی انکار کیا تھا  ۔لیکن دعا کے بعد اس نے نشاندہی کی ۔ 

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔


اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔ ایک اللہ والے خط میں لکھتے ہیں اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کے متاثرین کو مفت معاوضے کی ادائیگی کیلئے حکومت نے یونین کونسل کی وساطت سے سرکاری ملازمین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں جو آرمی کی معاونت سے زلزلہ سے متاثرہ گھرانوں کو معاوضہ اور Death Clime  جاری کرتی تھی ۔ راقم بھی ایک ایسی ٹیم کا چیئرمین مقرر ہوا ، ٹوٹے ہوئے مکانات کے معاوضے کی ابتدائی قسط پچیس ہزار روپے اور ایسے گھرانے جن کے ہاں اموات ہوئی تھیں ان کے لئے فی آدمی ایک لاکھ روپے Death Clime مقرر ہوا۔ Death Clime کا ایک لاکھ روپے والا چیک گم ہو گیا ۔ میں بہت پریشان ہوا کیونکہ وہاں تو جعلسازی کا خطرہ تھا ۔ تمام نظام ڈسڑب تھے ، زلزلے نے سب کچھ تہہ و بالا کر دیا تھا ۔ ایسا چیک کوئی بھی کیش کرو اسکتا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ کل ڈپٹی کمشنر کو مکتوب لکھوں گا کہ فلاں نمبر کا چیک منسوخ کر دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بندہ اس چیک کو کیش کر وا لے ۔دو تین روز کے بعد اچانک میں نے واسکٹ چیک کی تو وہ چیک میری جیب میں موجود تھا حالانکہ میں پہلے چیک کر چکا تھا ۔ کوئی بندہ ڈال گیا تھا ۔ اللہ جل شانہ نے کسی جن کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ جاؤ وہ چو ر لے گیا تھا اس چور کی واسکٹ سے اس کی واسکٹ میں ڈال دیں ۔ رب آقا ہے ۔ ساری خدائی اس کے ماتحت ہے ۔ رب کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ رب سب کچھ کر سکتا ہے اس کے بعد وہ صاحب خط میں لکھتے ہیں کہ " میں نے اپنی سوچ کے دہارے بدل دیئے۔"
غیبی امداد کا دوسرا واقعہ :۔پہلی قسط تقسیم ہونے کے بعد دوبارہ ڈی سی آفس مظفر آباد گیا تاکہ مزید رقم ، چیک لا کر فہرست کے مطابق تقسیم کروں ۔ مظفر آباد ڈی سی آفس سے پچیس لاکھ روپے کیش اور پندرہ لاکھ روپ کے Death Clime چیک لے کر میں نے اپنے کپڑے کے تھیلے میں پیک کر کے اپنی موٹر سائیکل کے پیچھے رک دیئے تاکہ نیشنل بینک سے وہ Death Clime  چیک کیش کر لوں جب میں اپنے چچا کے گھر پہنچا ، تو دیکھا کہ موٹر سائیکل سے تو وہ تھیلا جو پیچھے  باندھا ہوا تھا غائب تھا ۔ جس تھیلے میں پچیس لاکھ روپے نقد اور پندرہ لاکھ روپے کی چیک تھے ۔
گمشدہ 25 لاکھ نقد اور 15 لاکھ کے چیک کی تلاش :۔ اب میں اسی راستے سے واپس ڈی سی آفس کی جانب سے روانہ ہوا جہاں سے آ رہا تھا ۔ راستے میں جگہ جگہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے بازار میں ، دکانداروں سے اور دیگر پیدل چلنے والے افراد سے پوچھتا رہا کہ آپ نے یہاں روڈ پر کوئی گرا ہوا تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ سب نے انکار کر دیا ۔
حواس باختہ کی رب سے فریاد:۔ ایک لمحے کیلئے ایسے محسوس ہوا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ اتنی بڑی گمشدہ رقم نے مجھے حواس باختہ کر دیا تھا ۔ میں کافی پریشان ہو گیا ۔ میں جب تلاش بسیار کے باوجود مکمل مایوس ہوا تو ہجوم سے ذرا ہٹ کر کھڑے ہو کر رب سے باتیں کیں کہ " اے اللہ اگر میں نے زندگی میں کوئی ایسا کام کیا جو تجھے پسند ہو تو مجھ پر رحم کر کیونکہ میں اب مجبور ہوں اور میری ساری جائیداد بھی اتنی نہیں کہ میں رقم کی ادائیگی کر سکوں اور پھر بات یہ ہے کہ مجبور لوگوں کا مال ہے اور رقم کی گمشدگی پر میرا کوئی یقین بھی نہیں کرے گا ۔ یااللہ تو ہی میرا مولا ہے ۔ بس تو ہی مجھ پر کرم فرما ۔ ( "اللہ والوں ! اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لو۔")
اور میری رقم مجھے مل گئی :۔ وہ صاحب خط میں مزید لکھتے ہیں کہ دعا مانگ کر میں اسی راستے پر ایک بار پھر موٹر سائیکل لے کر نکلا جس راستے پر پہلے ڈھونڈ ڈھانڈ کر آیا تھا ۔ اسی راستے میں لڑکوں کی ایک ٹولی کے پاس رکا ، ان سے پوچھا یہاں اس رنگ کا کوئی تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا ہاں دیکھا ہے ۔ ابھی کوئی 30 منٹ پہلے ایک لڑکا وہ تھیلا فلاں خیمہ بستی میں لے کر گیا ہے ۔ میں اس لڑکے کی نشاندہی پر اس بچے کے ساتھ خیمہ بستی گیا ۔ متعلقہ خیمے کے باہر کھڑے ہو کر آواز دینے لگا کہ وہ میرا تھیلا جو تمہارے بچے کو ملا ہے مجھے واپس دو اور وہ تھیلا اس رنگ کا ہے ۔ اندر خاتون موجود تھی ، میں نے اس خاتون سے کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تمہارا بچہ جو تھیلا لے کر آیا ہے وہ میرا ہے وہ مجھے دے دو ۔
رقم صحیح سلامت تھی :۔ 30 سیکنڈ کے انتظار کے بعد دوبارہ اس خاتون کے ہاتھ میں وہی تھیلا تھا اور بالکل کھلا ہوا نہیں تھا ۔ اور اس میں وہ سب کچھ موجود تھا جو میرا تھا اور جس کا میں امین تھا اور جو مجھے زلزلہ سے متاثرہ بے گھر لوگوں تک پہنچانا تھا ۔ آگے لکھتے ہیں کہ تھیلا دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے شکر کے آنسو نکلے ، سبحان اللہ ! سچے دل سے اور رزق حلال کھا کر مانگی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی ۔ آگے لکھتے ہیں میری امانت مجھے مل گئی ۔ وہ لڑکا جس نے تھیلے کی نشاندہی کی تھی پہلے اس سے جب میں پہلے چکر پر آیا تھا تب بھی میں نے اس سے پوچھا تھا اس نے تب بھی انکار کیا تھا  ۔لیکن دعا کے بعد اس نے نشاندہی کی ۔ 

ایک دکھی خط میرے نام

ایک دکھی خط میرے نام  :۔


بہت دکھی دل کے ساتھ آپ کو بتا رہی ہوں ، میرے شوہر نے میرے ساتھ پسند کی شادی کی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور ایک بیٹی دی ۔ شوہر شروع ہی سے گرم مزاج ، اتنا گرم مزاج کہ یہ بھی نہیں دیکھتے تھے کہ میں کس کے سامنے اور کہاں ہوں ؟ میں سب کچھ برداشت کرتی رہی ،میرے شوہر ایک شعبے میں ملازمت کرتے تھے ۔مناسب گزارا ہو رہا تھا، لیکن ان کے غصے اور گرم مزاجی نے ان کی وہ جاب چھڑا دی،کہ میرا اس پر گزارا نہیں ہوتا اور ان لوگوں کا رویہ میرے  ساتھ اچھا نہیں حالانکہ خود ان کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ اچھا نہیں تھا ۔ پھر انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک اور بزنس شروع کیا لیکن نمبر دو بزنس نمبر ایک نوکری چھوڑ کر نمبر دو بزنس کیا ۔حالات تو اچھے ہو گئے کاروبار چہل پہل ،لباس ، کپڑے ، کھانا پینا بظاہر رزق کی فروانی لیکن ادھر سے گھر کی بربادی شروع ہو گئی ۔ میرے شوہر اپنے آپ کو زمین کا خدا سمجھنے لگے ۔ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ نہایت گستاخانہ اور بدتمیزی کا رویہ ۔ ماں کو جی بھر کر دکھ دیا اور ماں کی جی بھر کر بے عزتی کی ۔ ماں پیاسی اور سسکتی نظروں سے اسے دیکھتی رہتی کہ شاید کبھی اچھے لہجے اور اچھے رویے سے یہ شخص مجھے دیکھ لے ،لیکن آج تک اس بندے نے نہ میٹھا بول بولا ، نہ میٹھی آنکھیں دیکھیں اور نہ میٹھی چال چلا ۔ اس کی چال میں تکبر ، غرور ، بدتمیزی اور اکڑتھی ، اس کے بولوں میں کرواہٹ تھی ۔ اس کے لہجے میں کھٹاس تھی ۔ آخر اسی حالت میں ماں اللہ کو پیاری ہو گئی ، یوں یہ گھر والوں سے اور دور ہو گیا ۔ اس کے اسی غصے ، اکڑ پن ، تکبر ، غرور اور مزاج کی تلخی اور تیزی کی وجہ سے تمام گھر والے حتیٰ کے رشتے دار سب اس سے دور ہو گئے ۔ اس کا وہی دو نمبر کام چلتا رہا ۔ پھر اس کی زندگی میں ایک غیر مذہب لڑکی آ گئی ، جو اس کے بہت قریب ہو گئی ، ہوٹلوں میں ملاقاتیں ہونا شروع ہو گئیں ۔پھر شوہر کو نامعلوم کیا ہوا اس نے تمام لوگوں کا پیسہ اکٹھا کیا جو پینتالیس لاکھ سے زیادہ تھا ،اور بیرون ملک ہمیں روتا ، سسکتا چھوڑ کر چلا گیا اور یہاں تک بھول گیا کہ میری بیوی اور بچے بھی تھے،وہاں یہ سارا پیسہ اجاڑ کر آخر کار پاکستان اس لڑکی کے ساتھ واپس آ گیا ۔ اس لڑکی کے والدین نے لڑکی کو اپنے گھر بٹھا لیا اور بہت بڑی رقم کا مطالبہ کرنے لگے ، اب عالم یہ ہے کہ یہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر میں چھپ کر رہ رہا ہے ہر وقت لوگوں سے جھوٹ بولتا ہے ، دھوکہ دیتا ،فریب کرتا ہے ۔ اسے اپنے خاندان کی ، اپنے گھر کی ، اپنی بیوی کی ، اپنی اولاد کی کوئی پروا نہیں ۔ سڑک بازار ، گھر برادری ہر جگہ ، ہر کسی کی بے عزتی کرتا ہے ۔ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کون ہے ، کیا ہے ؟ بس اس کا مزاج وہی ہے حالانکہ وہ عورت بھی اس سے دور ہو گئی ۔ دولت ، مال ، چیزیں دونمبر جہاں سے آئیں تھیں ، وہاں واپس چلی گئیں۔ یہ خالی اور فقیروں کی طرح سڑکوں کے گشت کرتا ہے ، اب تو میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں کہتے ہیں ماما ، بابا کو گھر نہ آنے دیں ، بچے باپ سے نفرت کرتے ہیں ۔ چونکہ میں آپ کے تسبیح خانہ سے متعلق ہوں ، میں نے بچوں کی تربیت بہت اچھی کی ہے بچوں کے اندر باپ والا مزاج نہیں لیکن میری زندگی اجیرن ہو گئی ہے ۔ میرا سکھ لٹ گیا ہے ، میرا چین لٹ گیا ہے ۔ اے کاش میں محبت کی  شادی نہ کرتی ایک خواب مجھے بار بار آتا ہے اور کئی بار آیا ہے پھر یہ خواب خیالوں کی شکل میں میرے ذہن میں ہر وقت سوار رہتا ہے ۔ اس محبت کی شادی میں میرا باپ مجھ سے  نارض تھا، میرے بہن بھائی اور خاص طور پر میری ماں بہت ناراض اور دکھی تھی ، آج بھی وہ آنسو، وہ آہیں ، وہ سسکیاں ،جو شاید اب میرا مقدر بن کر رہ گئی ہیں ، میں نے بے شمار بار اپنی ماں کے چہرے پر دیکھیں ۔ حضرت حکیم صاحب! مجھے ماں کی بد دعائیں کھا گئیں ، مجھے باپ کی آہیں کھا گئیں، میں ہر محبت کرنے والی بیٹی اور بھائی سے کہوں گی خدارا تسبیح خانہ سے جڑ جائیں آپ جہاں بھی ہیں ، موبائل کے ذریعے مسلسل تسبیح خانہ کے درس سنیں اور کبھی بھی پیار اور محبت کی شادی نہ کریں ۔ اپنا سب کچھ اپنے والدین کے حوالے کر دیں اور اپنے مزاج میں دھیما پن ، ٹھنڈا پن پیدا کریں اور غصے کو ختم کر دیں ۔ بس اے کاش وہ دن کیا تھا جب یہ غصے والا شخص میری زندگی میں آیا اس نے مجھے بہت خواب دکھائے ، میں اپنی پیاری ماں کو بھول بیٹی ، میں اپنے عظیم باپ کو فراموش کر بیٹھی ۔ میں ساتھ کھیلنے والے بہن بھائیوں کو نفرت سے دیکھنے لگی، مجھے صرف اس شخص سے محبت تھی ، باقی سارے معاشرے سے نفرت تھی ۔ اے کاش ایسا نہ کرتی ، یاللہ ! اس ظلم کی سزا جو تو نے مجھے دی ہے میری نسلوں کو بچا ، ہر کسی کی بیٹی اور بیٹے کو پیار عشق اور محبت کی شادی سے بچا لے ۔ حکیم صاحب! خدارا مجھے سکون چاہیے، مجھے چین چاہیے، مجھے امن اور عافیت چاہیے ۔کیایہ مل سکتا ہے؟ مجھے علم ہے آپ مجھے کہیں گے ماں باپ کو راضی کر ، بہن بھائیوں کو منا اور اگر تیری ماں زندہ ہے اور باپ حیات ہے تو ان کو اتنا راضی، کر اتنا راضی، اتنا راضی کر کہ وہ دل سے تجھے معاف کریں اور جو اندر سے اٹھنے والی آہیں ہیں وہ دعاؤ ں میں بدل جائیں تب تو تیرا کوئی کام بن سکتا ہے ورنہ ہر گز نہیں قارئین! یہ خط میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے اس کا جواب میں کیا دوں؟ مجھے آپ سے اس کا جواب چاہیے معاشرے میں لو ، محبت ، پیار ، میسج اور نیٹ کی شادی کا جو رواج چل پڑا ہے اس شادی کا آخر انجام کیا ہوتا ہے ؟ سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں ہمارے معاشرے میں بھی ہوئی ہیں ، کبھی اس معاشرے کی مثالوں کو نظر انداز نہ کیجئے ۔ بلکہ ہر وقت اس مثال کو مثال سمجھیں کیونکہ یہ مثالیں جن میں عبرت ، انجام اور مکافات  ہوتا ہےہمیشہ بے مثال ہوتی ہیں ۔

Tuesday, December 1, 2015

Monthly Ubqari Magazine December 2015 shumara 114

ماہنامہ عبقری دسمبر 2015ء شمارہ نمبر 114
Click below to download PDF file
 ubqari-December-2015.pdf




ٖفہرست مضامین  ماہنامہ عبقری دسمبر 2015ء شمارہ نمبر 114