Thursday, August 6, 2015

مالش ! بچوں کے بے شمار امراض کا آسان علاج

مالش ! بچوں کے بے شمار امراض کا آسان علاج    (پروفیسر عمائمہ امتیاز)

بچوں کی جلد اور بالوں کو خصوصی توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔تا کہ مجموعی صحت کے ساتھ ان کی جلد اور بال بھی ابتداء ہی سے صحت مند رہیں لیکن بیشتر مائیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتیں ۔ لہذا جہاں مختلف رسائل میں خواتین کی اسکن اور ہیر کیئر کے بارے میں بےشمار مضامین لکھے جاتے ہیں اسی طرح بچوں کے لئے بھی اس بارے میں مضامین لکھے جانے چاہیئں ۔ تاکہ مائیں ان سے رہنمائی حاصل کر سکیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان سطور میں آج نونہالوں کی نرم و نازک جلد اور بالوں کی حفاظت کے لئے کچھ مشورے پیش کئے جارہے ہیں ہمارے ہاں عام طور پر  ہوتا کچھ یوں ہے کہ جیسے ہی گھر میں کسی نومولود کا اضافہ ہوتا ہے ،خاندان اور محلے پڑوس کی تمام تر خواتین اس کے بارے میں اپنے اپنے مشوروں سے نوازنے کے لئے آ جاتی ہیں ۔ اس طرح ماں مزید پریشان ہو جاتی ہے ، کہ کس کے مشورے پر عمل کیا جائے اور کس کے مشورے پر نہیں ۔ سو آج کل یہ صورت حال ہے کہ اگر ماں کے پاس کوئی مددگار موجود ہوا تو کچھ روز تک نوزائیدہ بچے کا مساج کر لیا جاتا ہے وونہ نہیں جب کہ بچوں کے شیر خواری کی عمر کے بعد بھی مساج، اسکن کئیر، ہئیر کئیر کی ضرورت پڑتی ہے ۔ جلد ہمارے جسم کا حساس ترین حصہ ہے اور بچوں کی جلد مزید نرم و نازک ہوتی ہے اس لئے شروع ہی سے ان کی حفاظت کریں اور جلد کے ساتھ بالوں کی دیکھ بھا ل کو معمول کا حصہ بنا لیں اس طرح بچے جوں جوں بڑے ہوں گئے انہیں خود بھی ان چیزوں کی اہمیت کا اندازہ ہونے لگے گا ۔ اور نوجوانی کی حفاظت کے عادی ہو چکے ہوں گئے ۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بچپن ہی سے ان باتوں پر توجہ دینےکے نتیجے میں جلد اور بال چونکہ صحت مند رہیں گئے لہذا وہ مختلف مسائل کا شکار ہونے سے بچے رہیں گئے ۔ اس طرح کے بیشتر مسائل بچپن ہی میں اپنی جڑیں بنا لیتے ہیں اور پھر نوجوانی کی عمر کو پہنچنے تک یہ مسائل پختہ ہو جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جلد کے مسا مات کا بند ہو جانا وغیرہ۔ یہ سب ایسے مسائل ہیں جن سے ذرا سی توجہ کی بدولت ابتداء ہی میں  بچا جا سکتا ہے۔ 
جلد کی حفاظت:
بچوں کی مالش اس وقت تک جاری رکھیں جب تک وہ کئی سال کے نہ ہو جائیں ۔ اگر آ پ مزید ہمت کریں تو بچوں کے سکول جانے کے عمر کے بعد بھی مساج کے معمول کو کم از کم اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کے وہ اس کو برداشت کر سکیں ۔ مساج کے دوران بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق باتوں میں لگائیں تاکہ وہ اس سے جان چھڑانےکی کوشش نہ کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح ایک ساتھ وقت گزارنے کی صورت میں ماں اور بچے کے درمیان محبت اور قربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے جب بچے ذرا اور بڑے ہو جائیں تو انہیں لٹا کر مساج کرنے کی بجائے بیٹھا بھی سکتی ہیں ۔ اس دوران آپ انہیں کوئی کھلونہ پکڑا دیں ۔ یا کوئی اچھی سی کہانی سنا دیں ۔ یوں وہ مگن رہیں گئے اور آ پ اطمینان سے اپنا کام سرانجام دے سکیں گئی اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مالش کے دوران آپ کو بچوں کے جسم کا جائزہ لیتے رہنے کا موقع ملے گا ۔ لہذا ان کے جسم پر کوئی غیر معمول ابھار ،دانہ پھنسی ، یا دھبہ دیکھیں تو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جائیں ۔ ایک اور اہم بات کے مساج کے وقت بچےکی پرائیوسی کا خاص طور سے خیال رکھیں ۔ گھر کو تمام افراد یا مہمانوں کے سامنے اس کا مساج کرنا شروع نہ ہو جائیں ۔ مساج کے لئے مارکیٹ میں بہت سے اچھے بےبی آئل دستیاب ہیں ، ان میں سے کوئی ایسا آئل منتخب کر لیں جس سے بچہ الرجی محسوس نہ کرے اس تیل میں زعفران کے کچھ ریشے ڈال کررکھ دیں تاکہ اس کی خوبیو ں میں مزید اضافہ ہو جائے ۔ گرمیوں میں بچوں کو کسی ہلکے صابن سے دو بار نہلائیں ۔ گرمیوں میں آنے والا پسینہ بچوں کی جلد کے مسامات بند کر دیتا ہے لہذا انہیں باقاعدگی سے کسی اچھے صابن کے ساتھ نہلانا ضروری ہے ۔ بغیر صابن نہلانے سے جلد کی خاطر خواء صفائی ممکن نہیں ہے۔ اس طرح بچے گرمی دانوں کا شکار ہو سکتے ہیں ان کے نہانے کا پانی گرم یا زیادہ ٹھنڈے کی بجائے معتدل رکھیں ۔ ہفتے میں ایک بار نہلانے سے پہلے تازہ پھلوں اور سبزیوں کے گودے سے بچوں کا مساج کریں ۔ اس مقصد کے لئے ٹماٹر، کھیرا، گاجر، اور کیلا بہترین ہیں۔اس دورا ن بچوں کو پھلوں اور سبزیوں کے اس ملغوبے سے کھیلنے کی اجازت بھی دیں ، تاکہ وہ خوشی خوشی مساج کروائیں ، گرمیوں میں بھی جلد کو ٹھنڈک پہنچانےکے لیے دہی کا استعمال بھی کر سکتے ہیں  ۔ اس کے علاوہ دھوپ کے وقت جب بھی بچوں کو باہر لے جائیں تو انہیں کوئی اچھا ہیٹ اور سن گلاسز پہنائیں ۔
بالوں کی حفاظت:
بچوں کے بالو ں میں وقتاً فوقتاً تیل کی مالش ضرور کریں ۔سر میں تیل لگانے کے دوران بھی بچوں کو کسی نہ کسی مشغلے میں الجھا کر رکھیں ۔ سر کے مساج سے بچے سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر اس کے عادی ہو جاتےہیں ۔ ہئیر آئل کی بہت سی اقسام مارکیٹ میں دستیاب ہیں ، تاہم آپ خوشبو والے تیل کی بجائے سادہ اور خالص تیل منتخب کریں ۔ دن میں کم از کم دو بار بچوں کے بالوں میں کنگھا یابرش کریں تاکہ یہ سلجھے ہوئے اور چمکدار رہیں ۔ بچوں کے بال اگر الجھے ہوئے ہوں ، تو انہیں کئی حصوں میں بانٹ لیں ، اور ایک ہاتھ سے تھا م کر دوسرے ہاتھ سے آہستہ آہستہ سلجھائیں ۔ اس طرح بال کم سے کم ٹوٹیں گئے ، اور بچے کو درد بھی نہیں ہو گا۔ بچے جوں جوں بڑے ہوں ان کے بالوں کو نرم ،چمکدار ، اور گھنا بنانے کے لئے ہئیر ماسک لگائیں ، حسب ضرورت حنا، سکاکائی، اور آملہ پاؤڈر لے کر تھوڑے سے تیل میں ملائیں ۔ اور دس منٹ کے لئے بالوں میں لگا رہنے دیں ، پھر سر دھلا دیں ۔ اگر آپ کے بچے کے بال بہت زیادہ خشک ہیں تو پہلے بالوں میں تیل لگائیں اور آدھے گھنٹے کے بعد دس منٹ کیلئے ماسک لگائیں لیکن جب تک ماسک لگا ہو بچے کو اپنی نگرانی میں رکھیں دن کے وقت باہر لے جاتے وقت کیپ وغیرہ پہنائیں ، اور ایک سے ڈیڑھ ماہ کے بعد ان کے بال باقاعدگی سے ترشوائیں تاکہ یہ صحت مند رہیں ، اور خوش نما دیکھائی دیں ۔ بچوں کے بڑوں کے پروڈیکٹس لگانے سے پرہیز کریں ،جیسے کے آئل، تیل اور پرفیوم وغیرہ ۔ ان چیزوں میں موجود کیمیکلز بچوں کی جلد اور بالوں کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ ان کے بال خشک کرنےکے لئے ہئیر ڈرائر کا استعمال ہر گز نہ کریں لیکن اگر سردی کے باعث یا کسی تقریب کے لیے ڈرائر لگانا ضروری ہو تو اسے لو سیٹنگ پر اور بالوں سے خاصا دور رکھیں ، گیلے بالوں میں کنگا نہ کریں ، کیونکہ اس طرح بال بہت زیادہ ٹوٹتے ہیں اور ان کی لچک ختم ہو جاتی ہے چمکدار صاف شفاف جلد اور گھنے صحت مند بال شخصیت کو خوش نما اور پرکشش بنانے کا باعث ہوتے ہیں ۔ لہذا اس طرح بچے کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے مندرجہ بالا تمام تجاویز لڑکے اور لڑکیوں کے لئے یکساں مفید ہے تاہم اگر آپ کا بچہ غیر معمولی حساس جلد کا مالک ہے تو اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر کسی تجویز پر عمل نہ کریں۔
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر6

تین گھونٹ پیو بے فکر جیو

تین گھونٹ پیو بے فکر جیو:

محترم حکیم صاحب السلام علیکم! میں عبقری رسالہ پچھلے کافی عرصہ سے پڑھ رہی ہوں ہم نے اپنی مشکلات کے حل کے لئے آپ کو خط لکھا تھا آپ نے ہمیں کچھ عمل کرنے کو بتائے تھے ۔ آپ کے بتائے ہوئے تمام وظائف پر ہم نے عمل کیا ہے، ماشا ء اللہ ہماری کافی پریشانیاں ختم ہو گئی ہیں میں نے وضو والا عمل کیا ہے جو کہ اس طرح کے وضو کرنے کے بعد آپ اسی نلکے سے تین گھونٹ پانی پئیں پہلے گھونٹ پر" اللہ شافی"  دوسرے گھونٹ پر "اللہ کافی " اور تیسرے گھونٹ پر "اللہ معافی"کہیں کوشش کریں کہ یہ پانی کھڑے ہو کر پئیں ۔میرے بہت سے مسائل جو حل نہیں ہو رہے تھے وہ وضو کے تنی گھونٹ پانی والے عمل سے حل ہو گئے ہیں ۔ میری جو حاجتیں تھیں وہ اس عمل نے پوری کر دیں ۔ آپ کا بے حد شکریہ ! کہ آپ کے دئیے گئے عمل سے ہماری مشکلات ختم ہو گئی ہیں ۔ اللہ پاک آپ کو اس کا اجرعظیم ضرور دے گا۔  (مسز نور محمد 'سکھر)
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر5

Wednesday, August 5, 2015

بغیر کشتی کے سمندر پار کرنے والے:

بغیر کشتی کے سمندر پار کرنے والے:

قیس بن حجاج نے جن صاحب سے یہ روایت سنی ہے وہ نقل کرتے ہیں جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے مصر فتح کیا تو  تو ان کے پاس اہل مصر اس مہینہ میں آئے جس کو ،بونہ، ان کی زبان میں کہتے ہیں بونہ عجمی زبان میں ایک مہینے کا نام ہے اور ان سے کہا اے امیر! ہمارے اس نیل کے لئے ایک طریقہ ہے اس میں پانی بغیر اس طریقے کے نہیں رہتا ہے ان سے پوچھا کہ وہ طریقہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جب اس مہینے کی بارہویں را ت گزر جاتی ہے تو ہم ایک ایسی کنواری لڑکی کی طرف قصد کرتے ہیں جو اپنے ماں باپ کی اکلوتی ہوتی ہے اس کے ماں باپ کو ہم راضی کر لیتے ہیں  اور اسے ہم زیور اور لباس فاخرہ سے جہاں تک ہو سکتا ہے مزین کرتے ہیں پھر ہم اس لڑکی کو دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں تو ان سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا یہ بات اسلام میں نہیں ہو سکتی اسلام ہر اس رسم کو گرا دیتا ہے جو اس سے پہلے ہے چنانچہ اہل مصر ان تین مہینوں میں بونہ اور ابیب اور مسری میں ٹھہرے رہے دریائے نیل بالکل بھی جاری نہ ہوا یہاں تک کے ان لوگوں نے جلا وطنی کا ارداہ کیا جب یہ بات  حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ تم نے یہ بات ٹھیک کہی کہ اسلام اپنے سے پہلی رسموں کو مٹا دیتا ہے میں تمہارے پاس یہ پرچہ بھیجتا ہوں جب تمہارے پاس میرا خط پہنچے تو اس پرچہ کو نیل کے اندر ڈال دینا جب حضر ت عمررضی اللہ تعالی عنہ کا خط ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ  کے پاس آیا اس پرچہ کو کھول کر پڑھا تو اس پرچہ میں صرف اتنا مضمون تھا : " اللہ کا بندہ عمر امیرالمومنین کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کے لئے ،امابعد ! اگر تو اپنی طرف سے جاری ہوتا تھا تو مت جاری ہو اور اگر اللہ واحد قہار نے تجھ کو جاری کیا تھا تو ہم اللہ واحد قہار سے سوال کرتے ہیں کہ تجھ کو جادی کردے"حضرت ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ پرچہ دریائے نیل میں اس روز سے ایک دن پہلے جس میں کہ یہ لوگ لڑکی کو بھینٹ چڑھاتے تھے ڈال دیا ۔ادھر اہل مصر جلا وطنی کا اور مصر سے چلے جانے کا اس لئے ارادہ کئے ہوئے تھے۔ کہ ان کی معاش کامعاملہ دریائے نیل کے بغیر دوست نہ ہو سکتا تھا بھینٹ چڑھانے والے دن جب لوگوں نے صبح دیکھا کہ اللہ پاک نے دریائے نیل کا پانی سولہ ہاتھ اونچا بہا دیا ہے اور یہ برا طریقہ اہل مصر سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ( اور آج تک دریائے نیل نہیں سوکھا ہے) عروۃ الاعمیٰ مولیٰ بنی سعد نے بیان کیا کہ ابوریحانہ سمندر میں سوار ہوئے اور یہ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں یہ سلائی کا کام کرتے تھے ان کی سوئی سمندر میں جا پڑی تو انہوں نے کہا اے رب! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو میری سوئی ضرور واپس کر دے وہ سوئی سطح سمندر پر ظاہر ہوئی اور انہوں نے اسے اٹھا لیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تحرین بھیجا تو میں بھی ان کے پیچھے گیا میں نے ان میں تین باتیں دیکھیں میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کون سی زیادہ عجیب ہے ؟ جب ہم سمندر کے کنارے پہنچے انہوں نے کہا اللہ پاک کا نام لو اور اس میں گھس جاؤ چنانچہ ہم نے اللہ پاک کا نام لیا اور اس میں اتر گئے اور اس سے پار ہو گئے اور ہمارے اونٹوں کے تلوے تک بھی تر  نہیں  ہوئے تھے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے ساتھ دارین چلو تاکہ ہم ان دشمنوں سے غزوہ کریں جو وہاں ہیں مسلمانوں نے فوراً اس کی تیاری کی حضرت علاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو لے کر چلے اور سمندرکے کنارے آ گئے تاکہ کشتیوں میں سوار ہوں تو دیکھا کہ مسافت بہت بعید ہے  دشمنوں تک کشتی کے ذریعے نہیں پہنچ سکتے دشمن بھاگ جائیں گئے یہ اپنے گھوڑوں سمیت سمندر میں کود پڑے اور کہہ رہے تھے ۔
یَا اَرْحَمَالرَّاحِمِیْنَ یَا حَکِیْمُ یَا کَرِیْمُ یَا اَحَدُ یَا صَمَدُ یَا حَیُّ یَا مُحْیُ یَا قَیُّومُ یَا ذَاالْجَلاَلِ وَ الْاِکْرَمِ لاَ اِلہَ اِلَّا اَنْتَ یَا رَبَّنَا۔
اور سارے لشکر کو حکم دیا کہ گھس جائیں چنانچہ سارے لشکر نے ایسا ہی کیا سمندر نے انہیں اللہ پاک کے حکم سے پار کرا دیا یہ اس طرح سمندر پر چل رہے تھے جیسا کہ نرم ریت پر چلا جاتا ہے اونٹوں کے پیر نہیں گھستے تھے اور گھوڑے سواروں کی رکاب تک پانی نہیں پہنچا تھا ۔ اور یہ مسافت کشتی کے لیے ایک دن رات کی تھی اس سمندر کو دوسرے کنارے تک پار کیا اور اپنے دشمنوں سے لڑے اور ان پر غالب بھی آ گئے اور ان مال غنیمت جمع کیا اس کے بعد واپس آئے تو سمندر کو ایک دوسری جانب سے پار کر رہے تھے کہ اپنی پہلی جگہ پر لوٹ آئے اس کے بعد جب ہم لوٹے اور ان کے ساتھ چلے زمین کے ایک جنگل میں اور ہمارے پاس پانی نہیں تھا ہم نے ان سے اس بات کی شکایت کی انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد دعا کی تو اچانک ڈھال کے برابر ایک ابر نمودار ہوا پھر اس ابر نے اپنی مشکیں لٹکا دیں اور ہم نے پیا اور اونٹوں کی بھی پلایا اور ان کی وفات ہو گئی ہم نے ان کو ریت میں دفن کیا ہم تھوڑی دور تک چلے تھے کہ ہم نے کہا کے درندے آئیں گئے اور ان کو کھا جائیں گئے ہم ان کی قبر کی طرف واپس ہوئے تو ان کو قبر میں نہ دیکھا۔ایک روایت میں یہ اضافہ ہے جب ہم کو ان مکعبر کسریٰ کے گورنر نے دیکھا تو اس نے کہا خدا کی قسم ہم ان کامقابلہ نہ کریں گے تو وہ ایک کشتی میں بیٹھ کر فارس چلا گیا ( حیاۃ الصحابہ حصہ دوئم) ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر 5 

ہم دنیا میں کیوں اور کس لئے آئے؟

ہم دنیا میں کیوں اور کس لئے آئے؟

فلاح پانے والے:
ایک خاتون نے ایک اللہ والے سے پوچھا کہ میرا بچہ جب سکول جاتا ہے  تو میرا دل ہر وقت اس میں اٹکا رہتا ہے۔ تو اس اللہ والے نے فرمایا: کیا کیفیت ہوتی ہے ؟ خاتون نے عرض کیا : حضرت  ہر پل میرا دل اس کی کیفیتوں میں اٹکا رہتا ہے کہ اب سو رہا ہو گا، یا جاگ رہا ہو گا ،کہیں چوٹ تو نہیں لگی ،کہیں گرتو نہیں پڑا  ،کہیں کھانا، پیاس ،پیشاب، کی کیفیت ہو گی تو چھوٹا بچہ ہے ۔ اگر پیشاب آیا تو کون استنجاء کروائے، گا اگر بھوک لگی تو کون کھانا کھلائے گا ،اگر پیاس لگی تو کون پیاس بھجائے گا ،کون کیا کرے گا ، ہر وقت اس میں ہی دل اٹکا رہتا ہے ۔ تو اللہ والے نے فرمایا ؛ میں نے تجھے اللہ ،اللہ سکھا دیا ہے  آج کے بعد تیرا دل اللہ کی ذات کی طرف ایسے ہی اٹکا رہے گا ۔ جیسے تیرا دل تیرے بچے کے بارے میں رہتا ہے ۔  تو جس کا دل اللہ کی ذات اعلیٰ کی طرف ایسے ہی اٹکا رہے گا وہ فلاح پائے گا۔ 
اللہ جن کے قریب آتا ہے:
ایسا فرد بظاہر دنیا میں ہو گا لیکن اس کا دل اللہ پاک کی ذات اعلیٰ کی طرف ایسا اٹکا ہوا ہو گا جیسے بچے کی طرف اس کی ماں کا دل اٹکا ہوا ہوتا ہے ۔اور ماں ہر پل بچے کے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی ساتھ ہوتی ہے ،اسی طرح بچہ ہم سے دور ہے اور ہم نے بچے کودیکھا نہیں لیکن بچہ دور ہوتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ ہے۔  پھر ماں خیال ہی خیال میں اس کا بوسہ لے رہی ہوتی ہے۔ اسے اپنی بانہوں میں لے رہی ہوتی ہے تصور ہی میں اس کو کھلا رہی ہوتی ہے ۔ پھر ایسے ہی اللہ پاک کی ذات اعلیٰ کا تصور ہو جاتا ہے اللہ پاک سے محبت اور اللہ پاک سے تعلق دل میں رچ بس جاتا ہے ۔ پھر اس کے لئے محنت کر کہ، توجہ کر کے ،مشقت کرکے ،مجائدہ کر کے، جب بندہ اس کیفیت میں پہنچتا ہے تو پھر اللہ پاک اس کے قریب آ جاتے ہیں ۔
ضروریات زندگی اور حلال و حرام ذرائع:
اب اللہ پاک اللہ جل شانہ  نے بندے کہ ساتھ ساری ضروریات لگا دی ہیں کھانا کھانا ضرورت ،پانی پینا ضرورت ، کپڑا پہننا ضرورت زندگی کا نظام ضرورت ہے۔ یہ سب اللہ پاک نے انسان کے ساتھ لگا دیا ہے اب اللہ پاک فرماتے ہیں یہ بتا کے تو حلال کی زندگی میں جائے گا یا حرام کی زندگی میں جائے گا پھر اللہ پاک نے اس کو ڈھیل دے دی یہ حرام کے راستے ہیں یہ حلال کے راستے ہیں دونوں بتا دیئے حرام کے راستوں ظاہراً چمک اور لذت آ رہی ہوتی ہے لیکن حلال کے راستوں کے اندر بظاہر خشکی نظر آ رہی ہوتی ہے ان راستوں کے اندر ظاہراً کوئی چمک نظر نہیں آتی ۔ اللہ پاک نے صرف دو راستے دیئے ہیں اور ان دونوں راستوں پر اختیار بھی دے دیا ہے اور اختیار بھی تھوڑے عرصے کے لئے دیا ہے اقتدار بھی تھوڑا عرصہ دیا ۔
ہر عروج کا ذوال ہے:
یہ حقیقت توجہ طلب ہے ! انسان اپنے فن میں فنکار بھی ہوتا ہے کسی سبجیکٹ میں اسپیشلسٹ بھی ہوتا ہے ۔ اپنے فن میں یکتا بھی ہوتا ہے کوئی کاریگر ہے ، جتنی عمر بڑھتی جائے گی کاریگری میں یکتا ہوتاجائے گا ادھر فن میں یکتا ہوتا ہے ادھر فن میں عروج پاتا ہے تو ادھر موت کا فرشتہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔کہیں یہ دعویٰ نہ کر بیٹھے کہ سب کچھ میں ہی ہوں پھر وہ کاریگر اور اس کی داستان ختم ہو جاتی ہے ۔ پھر نیا بندہ آتا ہے وہ کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی ابھرتا ہے پھر اس کا ستارہ چمکتا ہے پھر وہ استاد کہلواتا ہے پھر وہ اپنے فن میں باکما ل ہو جاتا ہے پھر یوں ہوتا ہے کہ موت کا فرشتہ اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ازل سے یہ تاریخ ایسے ہی چلی آ رہی ہے۔
کیا ہم دنیا میں اس لئے آتے ہیں :
اب یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہم یہاں بچے پیدا کرنے کی مشین مال کمانے کی مشین نوٹ چھاپنے کی مشین ایک گاڑی سے دوسری ایک پلاٹ سے دوسرا پلاٹ کیا ہم اس لئے آتے ہیں ؟ہم کس لئے آتے ہیں ؟ ایک پیغام ہے اور یہ میرے لئے بھی ہے آپ کے لئے بھی ہے میں بھی اس کا محتاج ہوں آپ بھی اس کے محتاج ہیں پیغام یہ ہے کہ ہم کس لئے آئے ہیں دنیا میں ؟ کیوں آئے ہیں دنیا میں؟
کیا مسلمان اور کافر کی زندگی میں کچھ فرق نہیں ؟
کافر سے پوچھا کیوں آیا؟کہنے لگا اس لئے آیا کہ بڑا ہوجاؤں لہذا کھیلتے کھیلتے بڑا ہو گیا اس کے بعد ماں باپ نے کسی کسب میں لگا دیا پہلے پڑھانے میں لگایا پھر کاروبار میں لگا یا اس کے بعد شادی کر دی شادی کے بعد بچے ہو گئے  پھر بوڑھا ہو کر مر گیا بس زندگی ختم ۔ مسلمان بھی سوچے کے اس کی زندگی کے دن رات بھی ایسے ہی گزرنے چاہیں ؟ تو پھر کافر اور مسلمان کی زندگی میں کوئی فرق ہی نہیں رہا صبح اٹھتے ہی کافر سوچتا ہے آج کا دن کیسے گزرے گا ؟ کوئی فرق رہا ؟ کوئی فرق بھی نہ رہا ۔
مسلمان کی زندگی میں امتیاز کیسے آئیگا :
فرمایا کے جب کوئی مسلمان صبح اٹھتے ہی دنیا کو ، مال کو، چیزوں کو، اسباب کو، سوچتا ہے تو ایک فرشتہ جو دائیں طرف ہوتا ہے وہ آواز دیتا ہے کہ اے اللہ پاک کے بندے میرے اللہ پاک کو سوچ اللہ پاک کی سوچ دامن گیر کر کہ میں آج کے دن اللہ پاک کو کیسے راضی کروں گا اس وقت ایک شیطان جو انسان کے بائیں طرف ہوتا ہے وہ آواز دیتا ہے خیال کرنا اللہ پاک کو نہ سوچنا دنیا کو سوچ جو تو سوچ رہا ہے بالکل ٹھیک سوچ رہا ہے مسلمان فرشتے کی آواز کو نہیں سن سکتا وہ شیطا ن کی آواز کو بھی نہیں سن سکتا فرشتہ اپنی ڈیوٹی پوری کرتا ہے شیطان اپنی ڈیوٹی پوری کرتا ہے۔۔۔(جاری ہے)   ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر4 

میری تین گزارشات

میری تین گزارشات:       جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا

اپنی بھرپور طاقت ،جوانی، قوت ، انرجی اور شباب جس کے 25 سال سعودی عرب ریال تلاش کرتے کرتے گزر گئے ، لاکھوں کمایا اور خوب کمایا  لوگوں نے داد دی کہ مال ،پیسہ اور چیزیں بہت آ رہی ہیں ۔پھرکوشش کی کہ پاکستان میں بیٹے کو سیٹل کروں اور اس کو یہاں بزنس دلاؤں اس کو اس دور میں تیس لاکھ بھیجے تھے ۔جب کسی کے پاس تیس ہزار ہوتے تو اسے لوگ بہت مالدار کہتے تھے ہوا یوں کہ اس کی زندگی سے تین چیزیں ہٹ گئیں پہلی چیز ماں باپ کی وہ دعائیں جن کو جوانی ہی میں چھوڑ کر وہ ریال کمانے سعودی عرب چلا گیا تھا اسے پل پل میں، سانسوں سانسوں میں ،لمحے لمحے میں ، ماں باپ کی دعاؤں کی اشد ضرورت تھی وہ ماں باپ ہی تھے جنہوں نے اسے ترکی ، کامیابی،برکتوں اور بہاروں کے زینے طے کروانے تھے ۔ ان کی دعاؤں سے یکسر محروم رہ گیا ،کبھی کبھی پوچھ لیتا تھا پھر ایک وقت آیا پوچھنے کا بھی وقت نہ ملا ۔ افسوس کے دونوں کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا ۔ جو دوسرا نقصان ہوا وہ جوان بیوی کی آئیں ،جس کی سسکتی ،ابھرتی جوانی، جزبات، چاہتیں ، خواہشات، امنگیں، امیدیں اندر ہی اندر رہ گئیں ۔ اور حسرتیں ڈوب ڈوب کر پھر ابھرتی تھیں اور ابھر ابھر کر پھر ڈوبتی تھیں لیکن اسے ایک ہی دھن سوار تھی کہ میں نے مالدار بننا ہے دولت اکھٹی کرنی ہے مالدار بن کر سال دو سال کے بعد چند ہفتوں کے لئے آتا وہ جو سال دو سال کی جدائی بجائے اس کے کہ سچی طلب بن جاتی وہ لڑائی، بد گمانی، شک و شبہ میں بدل جاتی یوں یہ ہفتے ایک دوسرے سے دور نفرتوں ،الجھنوں اور جدائی میں گزرتے اور یہ شخص پھر عرب چلا جاتا ۔ بیوی کی تنہائیوں کی ٹھنڈی سانسیں اس کو کھا جاتیں اور وہ ٹھنڈی سانسیں اس کے مستقبل کو دراصل ویران کر رہی تھیں اور وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں ترقی کر رہا ہوں ۔ قارئین!  یاد رکھیں چند فیصد بیویاں ایسی ہوں گی جو بددعائیں دیتی ہوں گی اکثریت بددعائیں نہیں دیتیں آہیں دیتی ہیں ۔ یاد رکھیے گا ! آہیں بددعاؤں سے زیادہ اثر رکھتی ہیں اور ان کا اثر بعض اوقات انسان اور بعض اوقات نسلوں تک چلتا ہے اس کوبیوی  کی آہیں  لگتی اور الجھاتی رہیں لیکن اس پر وہی ایک دھن سوار تھی کہ میں نے مال کمانا ہے دولت کمانی ہے اور چیزیں بنانی ہیں اور تیسرا نقصان  اور گھاٹا یہ ہوا کہ بیوی گھر میں نسلوں کی معمار اور شوہر باہر سے نسلوں کیلئے چھتری جب چھتری ہٹ جاتی ہے تو معمار کی کوئی حیثیت  نہیں رہتی جس اولاد پر باپ کا سایہ نہیں ہوتا بہت کم ہے کہ ان کے اخلاق اعمال معاشرت اور تہذیب بہتر ہو سکے ورنہ اکثر اخلاق معاشرت اور تہذیب سے دور ہو کر ننگی زندگی اور بغاوت پر اتر آتے ہیں اور معاشرے کی اس زندگی کو پسند کرتے ہیں جو کہ معاشرے کی بہت بدترین زندگی ہوتی ہے۔  بس اس شخص کے زوال کا سبب یہ تین باتیں بنیں ۔ ماں باپ کی دعاؤں سے محرومی بیوی کی آئیں سسکیاں اور اولاد کی تربیت میں کمی۔ اور یہ کمی آہستہ آہستہ بڑھتہ چلی گئی جو کماتا تھا اولاد کو دیتا تھا اور اولاد کو بنا بنایا   مال بغیر محبت اور مشقت کے جو ملا ان کے اندر قدردانی تو پہلے ہی ختم ہو چکی تھی باپ کے قرب نے محبت دی نہ تھی قرب ہی نہ رہا تو باپ کی خون پسینے کی کمائی کا احساس بھی نہ رہا ۔تو باپ مال بھیجتا رہا ناتجربہ کاری دولت کی زیادتی اٹھتی جوانی جزبات اور چھتری بلکل نہیں ۔ بس پھر کیا تھا سب کچھ لٹ گیا آج اس شخص کو گھر سے نکلے 35 سال ہو گئے ہیں ، 35 سال بھر پور کمائی کی پر حاصل  کچھ نہ ہوا۔ اور اب سالہا سال سے پانچ چھ سو ریال کی نوکری میں بڑھاپے کی زندگی ایک شخص کی چوکیداری میں گزار رہا اور اپنی حسرتوں پہ بیٹھ کر آنسو بہا تا ہے  میری اولاد نافرمان نکلی میری اولاد نے میری مال و دولت اور چیزوں کی قدر نہیں کی۔ اسے اپنے والدین کے ساتھ بیتی زندگی بھول گئی اس نے اپنے والدین کے ساتھ کیا کیا تھا؟یاد رکھیے گا زندگی میں مکافات اور جیسا بونا ویسا کاٹنا یہ ہمیشہ رہا ہے ہاں رب کرم ہے کسی کے لئے معافی کا انتظام اور معافی کا اعلان کر دے اس سےکون پوچھ سکے؟ لیکن یہ مکافات کانظام سدا چلے گا ۔ میں صرف ان مال کمانے والوں کی خدمت میں جو گھر سے دور درہم ،دینار ،ریال، پاؤنڈ، یورو، ڈالر  اور قیمتی کرنسی   خوب کمائی رزق حلال کمانا اور رزق حلال کیلئے محنت  کرنا نہ عیب ہے نہ میں منع کرتا ہوں لیکن  آپ کی خدمت میں اتنی درخواست ضرور کروں گا کہ ان تین چیزوں کا اگر خیال رکھ سکتے ہیں تو ضرور رکھیے گا اگر نہیں رکھ سکتے تو براہ کرم! لٹ آئیں یہ آنے دو آنے والا پاکستانی  روپیہ لاکھوں کے ڈالر، ریال ،اور دینار سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جس کا انجام پریشانی مشکلات اور مسائل ہیں ۔ قارئین! میں کبھی کبھی آپ کو اس موضوع پر چھیڑتا ہوں اور یاد دہانی کراتا ہوں امید ہے میری  باتوں پر آپ توجہ کریں گے کیونکہ ہر چیز مال و دولت اور نسلوں کو نہیں سنوارتی کچھ اور سب بھی ہوتے ہیں ۔  جس سے مال و دولت اور چیزیں بنتی ہیں بیرون ملک جتنے بھی لوگ رزق روزی کے لئے گئے انکی خدمت میں میری یہ تین گزارشات ہمیشہ رہیں اکثر لوگوں کی  آنکھوں پر شیشے ہوتے ہیں وہ شائد میری گزارشات کو نہ پڑھیں حتیٰ کہ سننا بھی گوارہ نہ کریں لیکن حقیقت سدا آشکار ہوتی ہے ۔ اور حقیقت حقیقت ہوتی ہے۔
  ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر3 

Tuesday, August 4, 2015

Ubqari Magazine September 2015


Ubqari Magazine September 2015








ماہنامہ عبقری ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111
سیب! جسمانی و اعصابی بیماریوں کا معالج۔
قارئین کے طبی و روحانی سوال اور قارئین کے جواب۔
جسمانی بیماریوں کا شافی علاج۔
میں ایک طوائف تھی ۔
شوہر کے رویہ سے پریشان ضرور پڑھیں !
انٹر نیٹ اور اس کے عالگیر اثرات ،خرابیوں سے بچاؤ کی تدابیر۔
قربانی کا گوشت ضرو رکھائیں ،لیکن چند باتوں کا خیال رکھیں ۔
تجربہ کار بڑی بوڑھیوں سے سیکھئے نباہ کے طریقے ۔
آزمودہ عمل ! وظیفہ ختم ہونے سے پہلے مقصد پورا ۔

Sunday, August 2, 2015

ubqari August 2015

ubqari magazine August 2015

ubqari August 2015





Read Uqari August 2015 online here
عبقری آگست 2015 کے مضامین آن لائین پڑھیں


فہرست مضامین:
میری تین گزارشات                                                                
ہم دنیا میں کیوں اور کس لئے آئے؟                                       
بغیر کشتی کے سمندر پار کرنے والے                                   
حضرت شاہ ترت فقیر کے مستند روحانی وظائف              
حبس میں ناشپاتی اور مٹھے کھائیں، ٹھنڈک پائیں              
قارئین کے طبی اور روحانی سوال اور قارئین کے جواب    
جسمانی بیماریوں کا شافی علاج                                    
اسلام میں معزوروں کے حقوق و سلوک                            
کالا جادو اور خطرناک زہر دعا کے آگے ناکام                  
گھر بسانا ہے تو درج ذیل غلطیاں ہر گز نہ کریں              
اجلی روشن اور خوبصورت آنکھیں آپ کی بھی ہو سکتی ہیں
ساس بہو میں دوستی کرانے کے آسان مشورے                
نفس شیطان اور شرارتی آدمی سے بچنے کا عمل              
آپ کا سوال، حضؑرت علامہ لاہوتی کا جواب                    
میرے دادا کی بوسیدہ ڈائری کے روشن ٹوٹکے                  
کھانے کے لئے جینا یا جینے کے لئے کھانا                      
نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج
بیماری جھگڑے جادو جنات کیلئے وظیفہ درود