Wednesday, November 4, 2015

وجودہ ڈیپریشن اور پر سکون رہنے کا نبویؐ نسخہ

موجودہ ڈیپریشن اور پر سکون رہنے کا نبویؐ نسخہ :۔


حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ نصیحت فرمائیے ۔ گو یا کہ نصیحت کی بھی درخواست کی اور ساتھ میں یہ شرط لگا دی کہ وہ نصیحت مختصر ہو ، لمبی چوڑی نہ ہو اور حضور اقدس ﷺ نے اس شرط پر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے اس کو یہ مختصر نصیحت فرمائی کہ ۔ "لَا تَغْضَبْ " غصہ مت کرو۔ اگر آدمی اس مختصر نصیحت پر عمل کرے تو شاید سینکڑوں بلکہ ہزاروں گناہوں سے اس کی حفاظت ہو جائے۔
گناہوں کے دو محرک ، غصہ اور شہوت:۔  اس لئے کہ دنیا میں جتنے گناہ ہوتے ہیں چاہے وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے ۔ اگر انسان غور گرے تو یہ نظر آئے گا کہ ان تمام گناہوں کے پیچھے دو جزبے کا ر فرما ہوتے ہیں ۔ ایک غصہ دوسرے شہوت ، شہوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے اصل معنی ہیں ۔ "خواہش نفس۔" مثلاً دل کسی چیز کے کھانے کو چاہ رہا ہے یہ کھانے کی شہوت ہے یا کسی ناجائز کام کے ذریعہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا چاہ رہا ہے ۔ یہ بھی شہوت ہے  لہذا بہت سے گناہ تو شہوت سے پیدا ہوتے ہیں اور بہت سے گناہ غصہ سے پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ابھی اس کی تفصیل عرض کروں گا ، لہذا جب یہ فرمایا کہ غصہ مت کرو اگر آدمی اس نصیحت پر عمل کر لے تو اس کے نتیجے میں آدھے گناہ ختم ہو جائیں گے۔
غصہ ایک فطری چیز ہے:۔ یوں تو اللہ پاک نے غصہ انسان کی فطرت میں رکھا ہے کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے اندر غصے کا مادہ نہ ہو اور اللہ پاک نے حکمت کے تحت ہی یہ مادہ انسان کے اندر رکھا ہے یہی مادہ ہے کہ اگر انسان اس پر کنٹرول کر لے اور اس کو قابو میں کر لے تو پھر یہی مادہ انسان کو بے شمار بلاؤں سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
غصے کے نتیجے میں ہونے والے گناہ ؛۔ لیکن اگر یہی غصہ قابو میں نہ ہو تو اس کے نتیجے میں جو گناہ پیدا ہوتے ہیں وہ بے شمار ہیں ، چنانچہ غصے ہی سے "تکبر" پیدا ہوتا ہے غصے سے" حسد "پیدا ہوتا ہے غصے سے" بغض "پیدا ہوتا ہے غصے سے" عداوت" پیدا ہوتی ہے اور ان کے علاوہ نہ جانے کتنی خرابیاں ہیں جو اس غصے سے پیدا ہوتی ہیں جبکہ یہ غصہ قابو میں نہ ہو اور انسان کے کنٹرول نہ ہو ۔مثلا ً اگر غصہ قابو میں نہیں تھا اور وہ غصہ کسی انسان پر آ گیا اب اگر جس شخص پر غصہ آیا ہے وہ قابو میں نہیں تھا اور وہ ماتحت ہے تو اس غصے کے نتیجے میں اس  کو تکلیف پہنچائے گا یا اس کو مارے گا یا اس کو ڈانٹے گا اس کو گالی دے گا اس کو برا بھلا کہے گا اس کا دل دکھائے گا اور یہ سب کام گناہ ہیں جو غصے کے نتیجے میں اس سے سرزد ہوں گے اس لئے کہ دوسرے کو ناحق مارنا بہت بڑا گناہ ہے اسی طرح اگر غصے کے نتیجے میں گالی دے دی تو حدیث میں۔
" حضور اقدسﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا مسلمان کو گالی دینا بدترین فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔" (بخاری)
اسی طرح اگر غصے کے نتیجے میں دوسرے کو طعن و تشنیح کر دی جس سے دوسرے انسان کا دل ٹوٹ گیا اور اس کی دل شکنی ہوئی تو یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے ، یہ سب گناہ اس وقت ہوئے جب ایسے شخص پر غصہ آیا جو آپ کا ماتحت تھا۔
"بغض" غصے سے پیدا ہوتا ہے:۔ اور اگر ایسے شخص پر غصہ آ گیا جو آپ کا ماتحت نہیں ہے اور وہ آپ کے قابو میں نہیں ہے تو غصہ کے نتیجے میں آپ اس کی غیبت کریں گے مثلاً جس پر غصہ آیا وہ بڑا ہے اور صاحب اقتدار ہے ، اس کے سامنے اس کو کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوتی زبان نہیں کھلتی تو یہ ہو گا کہ اس کے سامنے تو خاموش رہیں گے لیکن جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گا تو اس کی برائیاں بیان کرنا شروع کر دیں گے ۔ اور اس کی غیبت کریں گے اب یہ غیبت اسی غصے کے نتیجے میں ہو رہی ہے او ر بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسرے کی کتنی بھی غیبت کر لے مگر اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ غصہ کے نتیجے میں یہ دل چاہتا ہے کہ اس کو تکلیف پہنچاؤں مگر چونکہ وہ صاحب اقتدار اور بڑا ہے اس لئے اس پر قابو نہیں چلتا ۔ اس کے نتیجے میں دل کے اندر ایک گھٹن پیدا ہو گی اور دل چاہتا ہے کہ اس کو تکلیف پہنچاؤں یا اسے خود بخود تکلیف پہنچ جائے یہ بغض ہے جو ایک مستقل گناہ ہے جو اسی غصے کے نتیجے میں پیدا ہو ا۔حسد غصہ سے پیدا ہوتا ہے اور اگر جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اور ا س کو تکلیف پہنچنے کے بجائے راحت اور خوشی حاصل ہو گئی اس کو کہیں سے پیسے زیادہ مل گئے یا اس کو کوئی بڑا منصب مل گیا تو اب دل میں یہ خواش ہو رہی ہے کہ یہ منصب اس سے چھن جائے یہ مال و دولت یہ روپیہ و پیسہ کسی طرح اس کے پاس سے ضائع ہو جائیں ختم ہو جائیں یہ حسد بھی اسی غصے کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے بہر حال جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اگر اس پر قابو چل جائے تو بھی بے شمار  گناہ اس کے ذریعہ صادر ہو جاتے ہیں اور اگر قابو نہ چلے تو بھی بے شمار گناہ اس کے ذریعہ صادر ہوتے ہیں ۔یہ سب گناہ اس غصے کے قابو میں نہ رہنے کے نتیجے میں پیدا ہو رہے ہیں ۔ اگر غصہ قابو میں ہوتا تو انسان ان سارے گناہوں سےمحفوظ رہتا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ پاک نے نیک مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔
" یعنی نیک مسلمان وہ ہیں جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے غصے کو درگزر کرتے ہیں ۔"
اس لئے کہ غصہ پینے کے نتیجے میں یہ سارے گناہ سر زد نہیں ہوں گے۔

حفاظت قرآن کا سچا ناقابل فراموش واقعہ

حفاظت قرآن کا سچا ناقابل فراموش واقعہ :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!2010ء سے عبقری کو بہت شوق سے پڑھ رہی ہوں ۔ پہلے پہل میں بیٹی کے ہاں جاتی تو وہاں پڑھتی مگر اب میں نے اپنے گھر میں لگوا لیا ہے ۔ بڑی دیر سے مجھے ایک واقعہ ، قرآن کی حفاظت خود اللہ کرتے ہیں ، یا د تھا ۔ کہ عبقری میں لکھوں مگر پھر اپنی تشہیر کی وجہ سے رک جاتی لیکن اب بار بار یہ پڑھا کہ اپنے بیتے واقعات طبی یا روحانی عبقری میں لکھیں نوک پلک ہم خود سنوار لیں گے تو میرے میں بھی ہمت پیدا ہوئی اور آج قلم اٹھاہی لیا۔ یہ میری زندگی کا جیتا جاگتا واقعہ ہے۔یہ 1945ء کی بات ہے ہم اس وقت پنجاب انڈیا جالندھر کے ایک بہت ہی خوبصورت گاؤں میں رہتے تھے، یہ میرے ننھیال کا گاؤں تھا چونکہ میرے والدین بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے تو میں اپنی نانی کے ہاں رہتی تھی ، ان دنوں ساون بھادوں کا موسم تھا ۔ پیشن گوئی ہوئی کہ اب کی بار بہت زیادہ بارشیں ہوں گی اور ستر گھنٹے تک لگا تار بارش ہو سکتی ہے ۔ لوگ اس خبر کو معمولی سمجھ کر اپنے کاموں میں لگے رہے ۔ برسات عروج پر تھی کہ اچانک ایک دن صبح اذان فجر کے بعد ہلکی بوند اباندی شروع ہوئی اور اسی طر مسلسل تین دن تین راتیں ہوتی رہی تو ادھر ادھر سے وقتاً فوقتاً خبریں آتی رہیں کہ فلاں جگہ مکان زمیں بوس ہو گیا، فلاں جگہ دیوار گر گئی فلاں کی چھت گر گئی ، مزید ایک دن کے بعد لوگوں کے کچے مکان تو گر ہی رہے تھے پکے مکانوں کے گرنے کی خبریں بھی آنے لگیں ، لوگ نفل ، اذان ، دعائیں، توبہ مگر اس وقت ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے توبہ کا دروازہ ہی بند ہو چکا ہے ۔ اتنے میں اچانک ہمارے گھر میں دراڑ پڑتی نظر آئی تو ہم سب بھاگ کر گلی میں چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں مکان کا پچھلا حصہ تمام کا تمام باہر کھیت میں گر گیا آگے کا حصہ جسے وہ لوگ دلان بولتے تھے بہت بڑا تھا وہ رہ گیا مزید چند گھنٹوں کے بعد بارش بند ہوئی تو ہم لوگ دیکھ کر رونے لگے اللہ کا شکر ہے کہ سب کی جانیں بچ گئیں مگر اتنا صدمہ تھا کہ ایک پل میں محتاج ہو گئے نہ آٹا ، نہ گندم ، نہ چاول ، نہ کچھ کھانے کی چیز سب کچھ نیچے دب چکا تھا۔ اب مرحلہ تھا کہ ملبہ کس طرح اٹھایا جائے تاکہ نیچے نقدی ، اور زیورات وغیرہ نکالے جا سکیں ۔ مگر ایک مسئلہ درپیش تھا وہ یہ کہ ڈبل سٹوری مکان تھا مٹی کی دیوار کچی تھی نیچے سے لے کر اوپر تک کا تمام کا تمام گھر گر چکا تھا مگر ایک دیوار ڈبل سٹوری کچی مٹی کی گیلی بالکل سیدھی کھڑی تھی ۔ اس کے اوپر ایک الماری لگی تھی ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ دیوار کس طرح گرائی جائے تاکہ اگلے حصہ پر اثر نہ پڑے ، غرض وہاں جتنے لوگ کھڑے تھے اپنی تدبیر یں لڑا رہے تھے اتنے میں ماموں جان اس میں میرا قرآن پاک ہے جو میں اوپر جا کر ہر روز پڑھتی تھی اور وہاں رکھ دیتی تھی۔ ماموں جان یہ قرآن پاک میرے ابو جان نے دہلی سے لا کر دیا تھا اور مجھے قرآن پاک ختم کرنے پر میرے ابو جان نےمجھے تحفہ دیا تھا ۔ بس پھر کیا تھا ماموں جان نے جا کر سب کو یہ بات  بتا دی۔ لوگ جوق در جوق دیکھنے آنے لگے ۔ سارا گاؤں بلکہ ارد گرد کے گاؤں کے لوگ آنے لگے اور اللہ پاک کی شان ، قرآن کی عظمت کا بیان ہر زبان پر تھا اور لوگ حیران تھے اکیلی کچی دیوار نیچے سے لے کر اوپر تک کھڑی رہنا یہ معجزہ ہے ، اب اس کو جس طرح ہو سکے بچایا جائے ۔ اب ایک تدبیر سوجی گئی اور دو لمبی سیڑھیوں کو منگوا کر ان کو آپس میں رسیوں میں باندھا گیا اور دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا اب مسئلہ یہ تھا کہ بوجھ سے دیوار گر نہ جائے اور اسی طرح دو تین مزید گھنٹے گزر گئے کوئی بھی چڑھنے کی ہمت نہ کر رہا تھا ۔ پھر اچانک ایک نوجوان نکلا اور اللہ پاک کا نام لے کر چڑھنے لگا، لوگوں نے دعائیں شروع کر دیں کہ یااللہ رحم کرم کر یہ لڑکا قرآن پاک اتارنے جا رہا ہے ، بس دیکھتے ہی دیکھتے وہ اوپر گیا اور الماری بڑی احتیاط سے کھولی اور میرا پیار اقرآن سر پر رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے آ گیا اور لوگوں نے بھاگ کر خوشی سے اسے گلے لگا لیا ، ہر بندہ قرآن مجید کو چوم رہا تھا اور ایک دوسرے کو دے رہا تھا ، پورا گاؤں قرآن پاک کی عظمت کو بیان کر رہا تھا اور اللہ پاک کا شکر ادا کر رہا تھا ، ابھی سب لوگ گھروں کو بھی نہ گئے تھے میں بھی اپنے ابو جان کی واحد نشانی کو لے کر اپنے رشتہ دار کے گھر پہنچی بھی نہ تھی کہ ایک دھڑام سے آواز آئی اور وہ دیوار خود ہی نیچے گر گئی ، سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کی گونج سارا گاؤں یک زبان ہو کر بو ل رہا تھا ۔ اللہ پاک کی قدرت کے گن گا رہا تھا تو قارئین ! یہ ایک عین سچا واقعہ ہے میری عمر اس وقت 14 سال تھی ، اور اب میں ایک بوڑھی عورت ہوں ۔

Tuesday, November 3, 2015

کینو کے چھلکوں کا کمال

کینو کے چھلکوں کا کمال :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں سردیوں میں کینو کے چھلکے سکھا کر پیس کر دودھ یا بالائی ، عرق گلاب ، بیسن اور ہلدی میں ملا کر چہرے پر لگاتی ہوں اور بڑی مہنگی کریموں سے زیادہ فائدہ اس پیسٹ سے ملتا ہے ۔ اس مرتبہ میں نے آپ کے بتائے ہوئے عمل۔
"  یا اللہ ، یا خالق، یامصور، یاجمیل، "
ایک تسبیح پڑھ کر اس پر دم کیا ۔ میری چھوٹی انگلی خشگی کی وجہ سے پک گئی تھی کسی بھی کریم سے آرام نہیں آ رہا تھا ۔ میں نے کینو کے پاؤڈر کو لیپ بنا کر ایک دن اپنے چہرے پر اس ہاتھ سے لگایا تو کچھ پیسٹ اس انگلی پر بھی لگ گیا تو میں نے غور کیا کہ انگلی ٹھیک ہو گئی ہے ۔ الحمد للہ ! حضرت حکیم صاحب ! میں فرض نماز میں چھ سوریں باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اور روحانی غسل بھی کرتی ہوں ۔ بیت الخلاء والی دعا بھی پڑھتی ہوں وضو کے بعد تین گھونٹ بھی پیتی ہوں ۔ الحمدللہ ! زندگی میں بہت سکون ہے ۔

انگلیوں کے چشموں سے سیراب ہونے والے :

انگلیوں کے چشموں سے سیراب ہونے والے :۔

انگلیوں سے چشمو ں کا جاری ہونا:۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور نماز عصر کا وقت آ گیا تھا ، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وضو کیلئے پانی تلاش کیا نہ پایا، حضور ﷺ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک اس برتن میں رکھ کر لوگوں کو حکم دیا کہ اس سے وضو کریں ، میں نے دیکھا کہ پانی آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں سے جوش مار رہا تھا ، یہاں تک کہ تمام لوگوں نے وضو کیا ۔ بخاری شریف میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا ! حدیبیہ میں لوگ پیاسے ہو گئے ، نبی اکر مﷺ کے سامنے ایک چھوٹا سا برتن تھا جس سے آپ ﷺ وضو فرمارہے تھے ۔لوگ آپ ﷺ کی طرف گھبرائے ہوئے آئے ، آ پﷺ نے دریافت فرمایا کیا بات ہے ؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ۔ ہمارے پاس پانی نہیں کہ ہم وضو کریں اور پئیں ۔ سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے ۔ آپ ﷺ نے اس چھوٹے سے پیالے میں اپنا ہاتھ مبارک رکھا تو پانی آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے ابلنے لگاجس طرح کہ پانی چشمہ سے جوش مارتا ہے ہم سب نے پیا اور وضو کیا ۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ حضرت کتنی تعداد میں تھے ؟ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نے فرمایا اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہمارے لئے کافی ہوتا ہم پندرہ سو آدمی تھے۔
ایک گھونٹ پانی سے لشکر کا سیراب ہونا :۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی یار سول اللہ ﷺ ! میرے پاس وضو کا برتن ہے اس میں تھوڑا پانی ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! اسے لے آؤ ، میں اسے آپ ﷺ کے پاس لایا اور آپ ﷺ نے فرمایا تھوڑا تھوڑا کر کے اسے ڈالو اور آپ ﷺ نے وضو کیا اور اس وضو کے برتن میں ایک گھونٹ پانی رہ گیا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے ابو قتادہ ! اسے حفاظت سے رکھنا ، اس پانی کیلئے عنقریب ایک خبر ہو گی ۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، فرماتے ہیں جب دوپہر سخت ہوئی تمام لوگ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم پیاس سے تباہ ہو رہے ہیں اور اونٹ پیاس سے نڈھال ہو گئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہو گے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے حکم دیا ! اے ابو قتاد ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ وضو کا برتن لے آؤ ، میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے کر گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا ۔ کجاوہ میں سے میرا بڑا پیالہ کھول لاؤ ، میں نے اس پیالہ کو کھلا اور آپ ﷺ کے پاس لایا ۔ آپ ﷺ اس وضو کے برتن سے ان میں پانی ڈالتے جاتے تھے اور لوگ پی رہے تھے ۔ یہ دیکھ کر تمام لوگ آپ ﷺ کے پاس جمع ہو گئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! جماعت کے ساتھ نرمی برتو ، تم میں سے ہر شخص سیراب ہو کر واپس ہو گا تو تمام قوم نے پیا ۔ یہاں تک کہ سوائے میرے اور حضور نبی کریم ﷺ کے کوئی نہ بچا ۔ آپ ﷺ نے میرے لیے پانی ڈالا اور فرمایا اے ابو قتادہ ! پی میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ پہلے پی لیجئے آپ ﷺ نے فرمایا ! قوم کے ساقی کا نمبر پینے میں بعد میں ہوتا ہے ۔ چنانچہ میں نے پیا ، اس کے بعد آپ ﷺ نے پیا اور اس وضو کے برتن میں اتنا ہی بچ گیا جتنا پہلے تھا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین  کی تعداد اس موقع پر تین سو تھی ۔ ابراہیم کی روایت میں ہے کہ سات سو کی تعداد تھی۔
معجزہ رسول اللہ ﷺ چشمہ بہہ نکلا:۔ مسلم شریف میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔ مسلم نے پوری حدیث غزوہ تبوک میں نزار کے جمع کئے جانے کے بارے میں بیان کی ہے ۔ یہاں تک کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ! تم کل انشاءاللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچ جاؤ گے اور تم اس وقت تک نہ پہنچو گے جب تک کہ آفتاب چاشت کے وقت پر نہ آ جائے تو جو شخص اس پانی پر پہنچے اس پانی کو جب تک میں آ جاؤں ہاتھ نہ لگائے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ( اسی وقت جو آپ ﷺ نے فرمایا تھا) چشمہ پر پہنچے اور دو آدمی پہلے سے اس چشمہ پر جا چکے تھے اور وہ چشمہ جوتے کے تسمہ کے برابر تھوڑا تھوڑا بہہ رہا تھا تو حضور ﷺ نے ان دونوں اشخاص سے پوچھا کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں ! آپ ﷺ نے ان دونوں کو برا بھلاکہا اور جو کچھ اللہ نے چاہا کہ آپ ﷺ کہیں وہ کہا ۔ اس کے بعد تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے چشمہ سے تھوڑا تھوڑا پانی لیکر ایک برتن میں جمع کیا ۔ آپ ﷺ نے اس میں اپنا چہرہ مبارک اور ہاتھ مبارک دھویا پھر اس پانی کو اسی چشمہ میں ڈال دیا تو وہ چشمہ بہت پانی کے ساتھ بہنے لگا اور تمام لوگوں نے اس سے پانی پیا ۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا ! اے معاذ! قریب ہے کہ تمہاری عمر طویل ہو اور تم اس جگہ کو دیکھو گے کہ یہ جنوں سے بھر گئی ہے۔
آسمان کے ڈول سے سیراب کیا جانا:۔ عثمان بن قاسم نے بیان کیا کہ جب حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہجرت کی تو انہیں مقام منصرف میں شام ہو گئی ۔ مقام روحاء سے پہلے ہی یہ پیاسی ہوئیں اور ان کے پاس پانی نہیں تھا ۔ اور یہ روزہ دار تھیں ، انہیں پیاس نے بڑی مشقت میں ڈال دیا تھا ان پر آسمان سے پانی کا ایک ڈول سفید رسی میں لٹکایا گیا ، انہوں نے اسے لیا اور اس سے پانی پیا ، یہاں تک کہ سیراب ہو گئیں یہ فرمایا کرتی تھیں کہ اس کے بعد مجھے کبھی پیاس نہیں لگی ، حالانکہ میں نے سخت گرمیوں میں روزہ رکھ کر پیاس اختیار کرنی چاہی اس پانی پینے کے بعد کبھی بھی میں پیاسی نہ ہوئی اور اگر میں گرم سے گرم دنوں میں روزہ رکھتی ہوں تو پیاسی نہیں ہوتی ۔

نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق

نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق:۔



نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق:دل کی آنکھ سے دیکھنا نور بصیرت ہے اور ظاہری آنکھ سے دیکھنا نور بصارت ہے اور دل کی آنکھ کے حصول کیلئے اپنے آپ کو کسی فقیر کی غلامی میں مکمل سچائی سے دینا ہو گا  نفس کی خواہشات کو ختم کرنا ہو گا ۔ اس فقیر پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ہر مشورے پر عمل کرنا ہو گا ۔ اس کے بعد ہی نور بصیرت سے آپ منور ہو سکیں گے۔
مرشد ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان: میرے حضرت سیدمحمد عبداللہ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے !جس کا مرشد اس کو کسی کام سے روک نہ سکے اور اس کو ڈانٹ نہ سکے یا اس کو کسی چیز سے منع نہ کر سکے اور اس کو کسی کام کا حکم نہ کر سکے تو وہ مرید سمجھ لے کہ وہ ابھی کچا ہے اور کچا گھڑا کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ پکاتب ہوتا ہے جب مشقتوں کی آگ میں آتا ہے ۔ کسی چیز سے روکنا مزاج کیخلاف تو ہے مگر روکنے سے منع کرنے سے مزاج ٹوٹتا ہے ۔  منع کرنے سے اپنا شریکہ ٹوٹتا ہے اور اپنی فیملیاں ٹوٹتی ہیں ، اپنے رواج ٹوٹتے ہیں ، اندر کے مزاج ٹوٹتے ہیں ، جب یہ سب ٹوٹتے ہیں تو پھر گھڑے کو آگ ملتی ہے اور اس آگ سے وہ گھڑا پکا ہوتا ہے۔
سڑا ہوا عاشق اور گھڑا:ایک سڑا ہوا عاشقق جا رہا تھا ایک حسینہ کے سر پر گھڑے کو دیکھ کر کہنے لگا !واہ گھڑے تو ہم سے بھی اچھا ہے کہ حسیناؤں کے سر کا تاج بنا ہوا ہے ۔ گھڑا کہنے لگا ! میرے تاج بننے کے پیچھے میری مشقتوں کو بھی دیکھ۔ انسان کہتا ہے میں مشقتیں بھی نہ کروں اور حسیناؤں کے سر کا تاج بھی بن جاؤں۔
ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے وزیر کو جواب: ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وزیر کی بات سن کر اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور پھینک کر کہنے لگے ! اے مچھلیو جس رب کو تم مانتی ہو ، اس رب کو میں بھی مانتا ہوں، مجھے میری سوئی واپس کر دو ، اللہ اکبر ! جو اللہ کا ہو جاتا ہے ، اللہ اس کا ہو جاتا ہے ، ساری مچھلیاں منہ کے اندر سوئیاں لے کر پانی کی سطح پر آئیں ۔ کوئی سونے کی سوئی لیکر آئی ، کوئی چاندی کی سوئی لیکر آئی ، ایک مچھلی لوہے کی سوئی لے کر آئی ، ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے ہاں میری سوئی یہ ہے ۔ پھر اپنے وزیر کی طرف مڑے جس نے واپس رعایا میں جانے کیلئے کہا تھا،ان سے فرمانے لگے ! اب بتا بڑی بادشاہت کونسی ہے ؟ وزیر کہنے لگا ہاں واقعی آپ کی بادشاہت بڑی ہے ۔ ارے اللہ والو! سچ کہہ رہا ہوں جس کو اللہ کے ساتھ باتیں کرنا نصیب ہو جائے وہ خوش قسم ہے اور جس کو اللہ کے ساتھ باتیں نصیب نہیں ہوئی تو سمجھ لو رب ناراض ہے ۔ وہ تم سے بات کرنا پسند نہیں کرتا وہ تمہاری کچھ سنناپسند نہیں کرتا جس کو رب کے ساتھ راز و نیاز نصیب ہو جائے وہ شخص خوش قسمت ہے ، مبارک باد کا مستحق ہے ۔ نور بصیرت کی روشنی دیکھنے کے بعد وہ وزیر کہنے لگا مجھے اب پتہ چلا ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کہ آپ کی بادشاہت بہت بڑی ہے ۔ آپ کا تخت بہت بڑا ہے ۔ آپ نے بلخ کی حکومت چھوڑی ہے بلخ(چیچنیاں) کو کہتے ہیں ، اس کا نام کوہ قاف بھی ہے  کوہ قاف کو اللہ نے بہت حسن و جمال دیا ہے ۔ ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے بلخ کی حکومت اللہ کی رضا کیلئے چھوڑی ۔ کسی غرض اور طمع کیلئے نہیں چھوڑی۔
فقیر کی بات کو سن لیں جو اللہ کیلئے حکومت کو چھوڑے گا ۔ حکومت سے مراد تاج و تخت نہیں بلکہ ذاتی اختیارات ہیں جیسے ! جھوٹ پر اقتدار تھا میں جھوٹ بول سکتا تھا، دھوکے پر اقتدار تھا میں دھوکہ دے سکتا تھا، فریب پر اقتدار تھا میں فریب کر سکتا تھا، چوری پر اقتدار تھا میں چور ی کر سکتا تھا، حرام پر اقتدار تھا میں حرام کام کر سکتا تھا ، کسی کے قبضہ پر اقتدار تھا میں قبضہ کر سکتا تھا ، مجھے فیشن پر اقتدار تھا فیشن کر سکتا تھا ، مجھے نافرمانی پر اقتدار تھا میں نافرمانی کر سکتا تھا ، مجھے ترکی بہ ترکی جواب دینے پر اقتدار تھا میں جواب دے سکتا تھا مگر یااللہ ! میں نے تیری خاطر یہ سب نہیں کیا ،  ایسا شخص قیامت کے دن ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کیساھ کھڑا ہو جائے گا کہ اسے اقتدار حاصل تھا مگر اس نے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنا ذاتی اقتدار قربان کیا ، اقتدار چھوٹا بھی ہوتا ہے اور اقتدار بڑا بھی ہوتا ہے ۔کوئ پانچ بندوں کا حاکم ہے ،کوئی پچاس بندوں کا حاکم ہے ، کوئی علاقے کا حاکم ہے ، کوئی شہر کا حاکم ہے، کوئی ملک کا حاکم ہے۔ چاہے وہ حاکم چھوٹا ہو یا بڑاہو۔
تسبیح خانہ میں آنے والے لوگ:کسی شعبے کے بڑے افسر ہیں یہاں درس سنتے ہیں اور اس درس کے بعد اللہ پاک نے باتیں کرنے کا سلیقہ عطا فرما دیا ، بڑے مالدار تھے ۔ بڑی گاڑیاں تھیں ، بڑ ا تخت تھا، بڑی حکومت تھی،بہت اقتدار تھا۔ کہنے لگے ! اگر آپ مرشد نہ ہوتے تو میں یہ بات کبھی نہ بتاتاکہ میری جیب میں اتنے پیسے نہیں تھےکہ میں وین کا کرایہ ادا کرتا ۔ ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ کیلئے ویگن دس روپے لیتی ہے اور میرے پاس دس روپے بھی نہیں تھے ۔ میں گلشن راوی سے اکیلا پیدل چل پڑا ، پسینے سے شرابور ہو گیا لیکن میں نے کہا کہ میں نے درس میں ضرور جانا ہے بس اس لئے مجھے دیر ہو گئی ، یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ حضرات کی قربانی کی برکت سے اللہ پاک لوگوں کی دل و دماغ اور دین و دنیا میں انقلاب پیدا کر رہا ہے ۔ گھروں کے گھروں کی بساط پلٹ رہی ہے ، ایک صاحب کے پاس کسی کی امانت 50 ہزار روپے تھے اس کے وہ پیسے راستے میں چوری ہو گئے تو اس نے اللہ سے باتیں کیں اور اللہ سے عرض کیا یاللہ میری کوئی ذاتی غرض نہیں پھر یہ پچاس ہزار روپے کیوں گم ہوئے ؟اتنی رقم میں کہاں سے مہیا کروں گا ؟ اسی ادھیڑ پن میں تھا کہ اللہ کی مدد آئی ، وہاں موجود ایک شخص نے مجھے اپنی جیب سے پچاس ہزار روپے نکال کر دیئے ۔ اور کہنے لگے یہ رقم میں نے احتیاطاً اپنے ایک دو عزیزوں کیلئے رکھی تھی ۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا اس شخص نے فریب کیا تھا ۔ یہ تو بس میرے مولا کا کرم تھا کہ وہ چرائی ہوئی رقم واپس کرنے پر مجبور ہو گیا ۔ اس کے دل کی دنیا پلٹ گئی ، اللہ نے اس کے دل میں ڈال دیا کہ لوٹی ہوئی رقم واپس کر ، یہ میرا دیانتدار بندہ ، اس پر امتحان آ گیا ہے مجھ سے باتیں کر کے اپنے مسائل حل کرواتا ہے۔

Monday, November 2, 2015

ارب پتی کا جنازہ

ارب پتی کا جنازہ:۔


انسان ساری زندگی سیکھتا چلا آ رہا ہے اور کیا تقدیر کا نظام ہے یوں تھوڑا سا سیکھا اور کچھ سکھانے کے قابل ہوا ،اجل کا پیغام بہت تیزی سے اس کاتعاقب کرنے لگا ۔23 دسمبر 2001ء میں باقاعدہ امر الٰہی سے ایسے اسباب بنے کہ میں نے اپنا ٹھکانہ مستقل لاہور رکھا اور مجھے شیخ حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ ہجویری رحمۃاللہ علیہ کی وہ پیشنگوئی زندہ ہوتی نظر آئی ۔اس ہجرت سے پہلے بھی اور اس ہجرت کے بعد بھی جس گھر سے سب سے زیادہ مجھے تالیف قلبی ملی28 ستمبر 2015ء بروز پیر اس عظیم محسن کا انتقال ہوا ۔ ابھی حج کی حاضری سے واپسی ہوئی تھی کہ سیدھا ان کے گھر پہنچا ، کفن میں لپٹی بالکل خاموش اس ارب پتی کی میت رکھی ، مجھے کچھ پیغام دے رہی تھی ، لوگ سمجھ رہے تھے کہ میں خاموش بیٹھا ہوں ، میں خاموش نہیں بیٹھا تھا میرے اند رسوچیں ، جزبات ، خیالات اور احساسات کا ایک تلاطم تھا اور سمندر کی موجیں تھیں جو میرے دل و دماغ پر مسلسل ٹکڑا کر ہر دفعہ ایک پیغام چھوڑے چلی جارہی تھیں ، یہ سفید چادروں میں لپٹا عظیم محسن جو پیغام چھوڑ رہا تھا اور جو میری سوچوں ، سمجھ ، شعور ، عقل ، احساس فہم فراست اور سالہا سال کے مشاہدے سے نچوڑ لیا وہ دراصل یہ تھا ۔ پہلے دور میں سنا تھا بڑی بوڑھیاں دعائیں دیتی تھیں کے اللہ تجھے سات بیٹے عطا فرمائے ! اس عظیم محسن کے سات بیٹے ہیں لیکن وہ آدمی نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں جنہوں نے باپ کی طویل علالت میں ایسے خدمت کی جیسے کہ گلاب کے پھولوں کو سنبھال اور سنوار کے رکھا جاتا ہے ۔ اگر آدمی ہوتے تو مجھے خدمت کی امید نہ ہوتی بلکہ وہ باپ کو کسی گاؤ شالہ (اولڈہوم) میں چھوڑنے کا مشورہ کرتے یا پھر باپ کی زندہ میت کبھی اس گھر کبھی اس گھر ٹھوکریں کھاتی رہتی جو کہ معاشرے میں ہمیں روزانہ ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں یا پھر اگر شرم ہی شرم میں گھر رہتی بھی تو ایک اذیت ناک موت باپ مرتا میں نے جب اس عظیم محسن کا چہرہ دیکھا موت کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔اور موت کی تکلیف اور کرب چہرے کی کسی لکیر سے عیاں نہیں تھی بلکہ ایمان کی موت اور خدمت کی موت چہرے کی ہر ہر لکیر اور ہر ہر بال سے واضح نظر آ رہی تھی ۔ ہر بیٹے نے جی بھر خدمت کا حق ادا کیا ، دن اور رات کو باری کے ساتھ جاگنے کا شیڈول تھا ، اپنی جوانی کی نیند اور جوانی کی کمائی باپ پر لگا ئی نہیں بلکہ بہائی اور وہ عظیم باپ بھی کیا تھا جس کی نیکیاں تو بہت ساری ہیں پر ایک نیکی مجھے خود سبق دے گئی ہے وہ تھا رزق حلال اور معاملات میں احتیاط ۔ اس شخص کی معاملاتی زندگی ایسی اپنے تو اپنے غیر بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ کاروبار کی ابتدا میں ایک کاروباری شریک تھے ، فوت ہونے کے بعد اس شریک کی بیٹیوں اور خاندان کو ایسا سنبھالا کہ وہ باپ کی محرومی اور جدائی کو ایسے جیسے بھول گئی ہوں ، مجھے انہوں نے خود بتایا کہ جس طرح اپنے بیٹوں کو حج کرایا اسی طرح ہمیں حج کرایا ، جس طرح انہیں حق دیا اسی طرح ہمیں حق دیا بلکہ بیٹوں سے کہیں زیادہ ہمیں دیا۔  یہ وہ لفظ تھے جو ان کی زندگی میں کاروباری پارٹنر کے گھر والوں نے مجھے بتائے۔ وہ مزاج کے دبنگ تھے ، معاملات کے کھرے تھے اور لباس کے اجلے تھے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رزق حلال اولاد کو ایسا ملا کہ سات بیٹے اور دو بیٹیاں تربیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے۔ میں جنازے میں سات بیٹوں پر نظر ڈالتا اور کبھی دونوں شریف اور باحیا دامادوں پر تو مجھے احساس ہوتا ایک ہے حق کھانا ، ایک ہے حق دینا اور ایک ہے جھکتا دینا ۔ مرحوم نے جھکتا دیا اور رب نے پھر انہیں اتنا جھکتا دیا کہ بعض اوقات مجھے اپنے پہلے اور بعد کے حالات تفصیل سے بتاتے اور حیرت سی ہوتی اور حیرت ایسی ہوتی کہ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے  یہ رزق حلال جو نسلوں کو دیا وہ ان کے جوان پوتے اور پوتی اور پھر پڑپوتوں میں بھی واضح نظر آ رہا ۔ رزق کی برکت سے ایک بیٹاحق کی راہوں پر چلا گیا اور اس سہیل بیٹے نے سب کو ایسی زندہ اور تابندہ راہوں پر لگایا جن راہوں نے آدمی سے انسان بنا دیا ۔ ان کی ہر ہر خوبی ناقابل بیان ہے ۔جب 2002ء میں پہلے تسبیح خانہ لاہور ( وہ تسبیح خانہ بھی تھا ، رہائش بھی ، مہمان خانہ بھی اور کلینک بھی) کی بنیاد رکھی گئی چند آدمی دعا میں شامل تھے مرحوم دو کلو مٹھائی کا ڈبہ بانٹنے کیلئے لائے ، میں اکثر ان سے عرض کیا کرتا ہوں کہ پورے ورلڈ میں عبقری کے لاکھوں کروڑوں جو قرآن و سنت اور مسائل و مشکلات اور الجھنوں سے نکلنے کا فیضان پا رہے ہیں وہ اس دو کلو مٹھائی کے ڈبے کی کرامت ہے ۔ وہ اس وقت نہیں بٹا تھا بلکہ وہ مٹھائی مخلوق کو آسانیاں پھیلانے کی شکل میں قیامت تک انشااللہ بٹتی چلی جائے گی ۔ جہاں میرے اور دوسرے خدمت اور ساتھ دینے والوں کو اس کا ثمرہ اور صلہ ملے گا ، وہاں مرحوم کو ایک ڈھیر سارا اجر اور جزا اور صدقہ جاریہ کا سلسلہ ملے گا ، اور مل رہا ہے ۔ میری اہلیہ مجھے بتانے لگیں جسے سن کر میں چونک پڑا ، گھر میں کوئی واہی تباہی شور شرابہ اور بے ترتیب میت پر رونے کا بے ڈھنگ انداز جسے اسلام اور معاشرے نے ہمیشہ ناپسند کیا ہے بالکل نہیں تھاہر آنکھ اشکبا ر تھی ، پر یہ ایک اخلاقی ریت روایت زندہ کر کے دکھا دی ، بیٹے اشکبا رہیں ، سسکیاں ہیں ، لیکن کچھ ایسا انداز نہیں کہ دسیوں بیسیوں آدمی ان کو سنبھالنے کیلئے بے چین ہوں اور گھر میں بے شمار عورتیں ایک عورت کو سنبھال رہی ہوں اور بار بار ایک میت پر گر رہی ہوا ور چالیس گھر دور اس خاتون کی آوازیں ضبط سے سن رہے ہوں ۔ یہ منظر دیکھنے کو نہ ملا ، قارئین ! یہ میرے آپ کیلئے سبق ہیں میری ہر تحریر تعریف نہیں ہوتی لیکن اس کے اندر کچھ سبق اور کچھ راز سمجھنے والوں کیلئے ہوتے ہیں ۔ اس سے کہیں زیادہ انوکھی بات کہ بیٹے نے جنازہ پڑھایا ، میں سوچتا رہا طارق ! اے کاش تیری بھی اولاد ایسی ہو اور انشاءاللہ ، اللہ نے چاہا  تو ہو گی ۔ اور تیری بھی میت تیرے بیٹے کے سامنے ہو ۔ قارئین! رزق حلال اور معاملات کی پاکیزگی ۔ دوسرا سبق ! سات بیٹے اور دو بیٹیوں کی اعلیٰ تربیت اور ان میں انسانیت اور بہترین اچھے معاملات اور اخلاق۔ تیسرا سبق! موت تو سب  کے ساتھ رہے گی ، اور ہے پر میت پر کیسے رونا ہے اور کیسے اس کو گھر سے رخصت کرنا ہے ؟ آنسوؤں ، آہوں ، سسکیوں ، کے ساتھ یا بے ڈھب اور بے ترتیب غم کے انداز کے ساتھ ۔ چوتھا سبق! اے کاش! کسی کی اولاد اتنی اہل ہو کہ وہ بھی باپ کا جنازہ پڑھانے کے قابل ہو ۔ میں ابھی بھی سوچتا ہوں تو مجھے وہ محسن ان کی باتیں ان کا لہجہ اور ان کے معاملات کی سچائی بس آنکھوں کے سامنے گھومتی چلی جاتی ہے اور پھر ایک ٹھنڈی  آہ  بھر کر کہتا ہوں کہ یااللہ ! تجمل الٰہی شمسی کو اپنے خاص جوار رحمت میں جگہ عطا فرما آمین ثم آمین! اس محسن کا احسان میرے اوپر قرض ہے شاید  میں دنیا میں کبھی بھی نہ اتار سکوں ۔ اس لئے میں اس محسن کو ارب پتی کہتا ہوں کیوں ؟ وہ خود جن کے پاس اور ان کی نسلوں کے پاس اتنی اعلیٰ صفات ہوں وہ یقیناً ارب پتی ہیں اور اگر مالی طور پر ارب پتی ہونے کے باوجود بھی اگر یہ صفات نہیں ہیں تو وہ یقیناً بے قیمت ہیں ۔ 

ماہنامہ عبقری نومبر 2015ء شمار ہ 113








ماہنامہ عبقری نومبر 2015ء شمار ہ 113

جسمانی بیماریوں کا شافی علاج
ایام عید میں حضرت حکیم صاحب کی انتہائی مصروفیات