Sunday, January 17, 2016

فاسٹ فوڈ ٹیلی ویژن اور بچوں میں موٹاپا

فاسٹ فوڈ ٹیلی ویژن اور بچوں میں موٹاپا :۔


ثناء پیزا کھانے کی ضد کر رہی تھی ، ماں نے وعدہ  کیا کہ وہ شام کو اسے پیزا شاپ لے جائے گی دراصل وہ خود بھی چائینز کھانے کی شوقین ہے اکثر رات کا کھانا گھر میں نہیں بناتیں بازار سے پیزا کلب ،سینڈوچز منگوا لئے جاتے ہیں یا گھر پر ہی برگر بنا کر بچوں کو کھلا دیے جاتے ہی اس لئے ثناء اور عمر کا وزن عام بچوں سے زیادہ ہے موٹاپے کی وجہ سے وہ اٹھ کر پانی تک نہیں پیتے ، زیادہ وقت ٹی وی دیکھتے اور دیڈیو گیمز کیلتے رہتے ہیں کوئی ایسی سرگرمیاں اپنانے سے گھبراتے ہیں جن کی وجہ سے ان کا وزن کم ہو ۔
موجودہ دور کے والدین خود بھی فاسٹ فوڈ کے دلدادہ ہیں اور بچوں کو بھی اس کا عادی بنا دیتے ہیں ۔ ان کے والد نے ایک دوبار بچوں کو صبح کی سیر کرنے کا مشورہ دیا مگر بچوں کی والدہ نے منع کر دیا کہ وہ صبح سویرے نہیں اٹھ سکتے ۔اس طرح ان کی نیند پوری نہیں ہو گی ۔ اور وہ سکول میں صحیح طریقے سے پڑھائی کی طرف توجہ نہیں دے سکیں گے ان کی پھپھو نے بچوں کو چھپن چھپائی کھیلنے اور سائیکلنگ کرنے کا مشورہ دیا ۔ مگر انہوں نے ان کھیلوں کی بجائے ویڈیو گیم کھیلنے اور کارٹون دیکھنے کو ترجیح دی ۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے ان کا وزن کم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے لگا اب تو رشتہ داروں اور احباب نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ بچوں کو وزن کنٹرول کروائیں ۔ ورنہ ان کی صحت متاثر ہو گی ۔ایک آدھ مرتبہ بچوں کی پھپھو نے انہیں اپنے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی عمر کو اکسایا کہ وہ پودوں کو پانی دیا کرے مگر بچوں کی والدہ نے منع کر دیا کہ جب اس کام کیلئے ملازم موجود ہے پھر بچوں سے کام کروانے کا فائدہ بچوں کی پھپھو نے ثناء کو گلدان میں پھول سجانے کیلئے کہا تو ماں نے اسے روک دیا اور خود گلدان سجانے لگی ۔ بعض مائیں بچوں کو خود بھی کوئی کام نہیں کرنے دیتیں ۔ یہ سچ ہے کہ موجودہ دور کے بچوں پر پڑھائی کا لوڈ ہے وہ بھاری بستے اٹھاتے ہیں ۔ اسکول سے واپس آ کر وہ مولوی صاحب سے سپارہ پڑھتے ہیں ۔ پھر رات گئے تک ہوم ورک کرتے ہیں ۔ ایسے میں انہیں اگر کوئی کام کہہ دیا جائے تو ماں منع کر دیتی ہے کہ بچہ پہلے ہی تھکا ہوا ہے اور یہ نہیں سوچتیں کہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے سے کہں بہتر ہے کہ وہ اچھل کود کریں اور جسمانی سرگرمیاں اپنائیں تاکہ وزن کم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو سوچ بھی تعمیری ہو ۔بچوں کی والدہ بھی چونکہ کسی سکول میں استاد ہیں دہری ذمہ داری کی وجہ سے وہ زیادہ سوشل نہیں ہیں اس لئے والدین ناسمجھی کی وجہ سے ان کے کھانے پر توجہ نہیں  دے رہے ہیں انہیں واک یا سیر کرنے کیلئے نہیں لے جاتے اور نہ ہی کسی قسم کی ورزش کرنے کیلئے کہتے ہیں ۔ گھر میں اگر کوئی مرد موجود نہ تو تو جھٹ کسی فاسٹ فوڈریسٹورنٹ میں  ڈلیوری سروس کا آرڈ ر بک کروا دیا جاتا ہے تاکہ ان کا حد سے زیادہ لاڈلہ بچہ کہیں بھوکا ہی نہ سو جائے ۔ اس قسم کے بچے کھا پی کر اکثر ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں ۔ ایک مرتبہ بچوں کے والدین ماہر غذا سے ملے تو اس نے مشورہ دیا کہ بچوں کو بیسن یا جو کے آٹے میں خالص گندم کا بغیر چھنا آٹا ملا کر روٹی کھلائی جائے اس کے علاوہ سادہ غذا کھلائی جائے جو متوازن بھی ہو اور چینی کا استعمال کم کر دیا جائے بلکہ اس کی جگہ شکر استعمال کی جائے بالائی اتار کر دودھ پلایا جائے یا اس کی جگہ بغیر بالائی کے دہی استعمال کر وائی جائے۔چپس، چاکلیٹ ، اور آئس کریم کا استعمال صرف مہینے میں ایک دو بار ہی کیا جائے بچوں کو ڈاکٹر کی ہدایات پسند نہیں آئیں کیونکہ وہ شروع ہی سے زبان کے ذائقے کے عادی تھے ۔ عموماً ہمارے ہاں سادہ غذا کو غربت کی علامت سمجھا جاتا ہ اور فاسٹ فوڈز ، برگر ، پیزا وغیرہ کو امیر انہ غذائیں تصور کیا جاتا ہے جو غلط ہے ۔ایسے بچوں میں آرام طلبی کی عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ اگر انہیں کوئی کام کرنے کیلئے کہا جائے تو وہ اتنے غصے سے دیکھتے ہیں کہ کام کہنے والے کا دل چاہتا ہے کہ خود ہی کام کر لیا جائے طبی ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ موٹے بچوں اور نوجوانوں کو فاسٹ فوڈز سے دور رکھا جائے بلکہ ٹین ایج لڑکیوں کو بھی ایسی غذا کا زیادہ استعمال نہیں کروانا چاہئے ہو سکتا ہے اس کے نتیجے میں ان کے ہاں جو بچے پیدا ہوں وہ پیدائشی طور پر ذیابیطس کے مریض ہوں ایسے بچوں کو صرف مشورے یا ہدایات دینے سے کام نہیں چلے گا ۔ کسی بھی وقت کھانے سے پہلے تھوڑی واک یا ورزش کر لینی چاہئے ۔علاوہ ازیں بچوں کو جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اس سے تھکن میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ بچے زیادہ چست ہوتے ہیں حال ہی میں بچوں اور نوجوانوں میں صحت مندانہ کھانے پینے اور ورزش کو فروغ دینے والے ماہر نیویارک سیٹیزن نے موٹاپے کا شکار بچوں کے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے بچوں کو ٹی وی اور بیٹھ کر کام کرنے  والی سرگرمیوں سے دور رکھیں اور جسمانی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں ۔
موٹاپا کیلئے معمولات :۔
صبح و شام :۔ انٹی فیٹ دو عدد ہمراہ عرق مکوہ نصف کپ ۔
بعد از غذا :۔ جوارش کمونی نصف چمچ چائے والا ۔ اکسیر جگر ٹیب دو عدد پانی کے ساتھ
سوتے وقت :۔ حب کبد نوشادری تین عدد پانی کے ساتھ ۔
غذا :۔ زود ہضم اغذیہ سکنجبین اور چوکر کی روٹی کا استعمال کریں ۔
پرہیز:۔ ثقیل ، بادی ، مرغن او میٹھی اغذیہ سے پرہیز کریں ۔

No comments:

Post a Comment